| 83745 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص نقیب اللہ کا انتقال ہوگیا،بیوی پہلے فوت ہوچکی ہے،بیٹا کوئی نہیں ہے،ورثہ میں دو بیٹیاں،ایک حقیقی بہن اورایک حقیقی بھائی ہیں اوررضاعی بھائی باپ سے زندہ ہے،کاریزمیں 6گھنٹے پانی بمع زمین کے،رہنے کے مکانات،منقولہ وغیرمنقولہ کچھ جائیداد یہ سب کچھ ترکہ میں شامل ہیں۔مثلاً: اگرکل میراث منقولہ وغیرمنقولہ کی قیمت اگر دو لاکھ بنتی ہوتو یہ میراث ورثہ میں کس طرح تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نقیب اللہ کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر مرحوم کےانتقال کے وقت صرف یہی لوگ زندہ ہوں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے مرحوم نقیب اللہ کی ہربیٹی کو %33.333(66666.664روپے)،بہن کو %11.111(22222.222 روپے) اور بھائی کو %22.222.524(44444.445روپے)حصہ ملے گا،جبکہ رضاعی بھائی مرحوم کی میراث سے شرعاً محروم ہوگا،البتہ بالغ ورثہ اگر اپنے اپنے حصوں میں سےاپنی مرضی سے ان کو کچھ دینا چاہیں تو ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ} [النساء: 11]
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 753)
(والعصبة بغيره من فرضه النصف والثلثان) وهم أربع من النساء (يصرن عصبة بإخوتهن ويقسم للذكر مثل حظ الأنثيين) فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] والأخوات لأب وأم بأخيهن والأخوات لأب بأخيهن لقوله تعالى {وإن كانوا إخوة رجالا ونساء فللذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 176]
وفی رد المحتار على الدر المختار( كتاب الفرائض، شرائط الميراث، ج:6، ص:758)
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.
وفی الھندیة (447/6):
ویستحق الإرث بإحدیٰ خصال ثلاث: بالنسب: وهو القرابۃ، والسبب: وهو الزوجیۃ والولاء.
الاختیار لتعلیل المختار (92/5، ط: مطبعة الحلبي):
ويستحق الإرث برحم ونكاح وولاء۔۔۔فصل [في العصبات] وهم نوعان: عصبة بالنسب، وعصبة بالسبب. أما النسبية فثلاثة أنواع: عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وأقربهم جزء الميت، وهم بنوه ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله وهو الأب، ثم الجد، ثم جزء أبيه، ثم بنوهم، ثم جزء جده، ثم بنوهم، ثم أعمام الأب، ثم بنوهم، ثم أعمام الجد، ثم بنوهم وهكذا، وعصبة بغيره، وهم أربع من النساء يصرن عصبة بإخوتهن، فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن، والأخوات لأب وأم بأخيهن، والأخوات لأب بأخيهن. وعصبة مع غيره، وهم الأخوات لأبوين أو لأب يصرن عصبة مع البنات وبنات الابن. وعصبة ولد الزنا وولد الملاعنة موالي أمهما، والمعتق عصبة بنفسه ثم عصبته على الترتيب وهو آخر العصبات.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


