03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانوروں کے نصاب میں درمیان سال میں پیدا ہونےوالے بچےشامل ہونگے۔
83772زکوة کابیانجانوروں کی زکوة کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مال مستفاد میں  زکوۃ واجب ہونے کے لیے چرنا اور سال گزرنا شرط ہے،یعنی اگر مال مستفاد سابقہ مال کی جنس سے ہے اور اس کا نما اور نفع بھی ہے مثلا پہلے بکریاں تھی ،پھر اس کے بچے پیدا ہوئے تو سابقہ مال کا سال پورا ہونے پر اس مال مستفاد کو شامل کرکے اتفاقا زکوۃ دینا واجب ہے۔

ایک آدمی کے پاس تیس بکریاں صحرا میں چرنے والی سال پورا ہونے پر یا درمیان سال  میں  بکریوں کے تیس بچے پیدا ہوئے  ،لیکن یہ شخص زکوۃ دینے سے انکاری ہے کہ میرے پاس کل تیس بکریاں ہیں، جبکہ چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوۃ ہے، باقی چھوٹے بچوں کو شامل نہیں کرتا۔

نوٹ:سال پورا ہونے پر مال مستفاد کو بھی شامل کرکے زکوۃ دینا واجب ہے۔ یہاں واجب سے کیا مراد ہے؟ مستحب کے معنی میں ہے، اگر شمار نہ کریں تو ماخوذ ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سال کےدرمیان حاصل شدہ مال مستفاد کو ہم جنس نصاب میں شامل کیا جائے گا،لہذا ایسی صورت میں بچوں کو بھی شامل کر کے ساٹھ بکریوں میں سے ایک بکری بطور زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی اوریہ حکم وجوبی ہے،نہ کہ استحبابی۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 7 / ص 40)

( والمستفاد ) ولو بهبة أو إرث ( وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه )

 ( قوله : والمستفاد ) السين والتاء زائدتان : أي المال المفاد ط ( قوله : ولو بهبة أو إرث ) أدخل فيه المفاد بشراء أو ميراث أو وصية وما كان حاصلا من الأصل كالأولاد والربح كما في النهر

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۲ذیقعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب