03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض اورضروریات زندگی کی مالیت نقدی اورسونے،چاندی کےنصاب سےمنہاہونےکاحکم
83740زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص دو سو درہم کا مالک ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے ساتھ تولہ سونے کا مالک ہو اس پر سال پورا ہونے پر زکوۃ دینا لازم ہے، اگر روپے نقدی یا سونا، چاندی اس سے کم ہو تو کچھ واجب نہیں ہے۔

ایک شخص  نصاب کا مالک ہے اور قرض دار بھی ہے اور گھر کے لیے بھی ضروری سامان خریدنے کی ضرورت ہے، مثلا موٹر ،گاڑی ، فریج، کپڑے رضائیاں، کپڑے دھونے کی مشین، سلائی مشین، گھر کا سالانہ اخراجات  دوسرے سال آنے تک کسی بیماری کاخرچ وغیرہ رکھتا ہے، قرض دار کا قرض ادا کرنے اور مندرجہ ذیل بالا ضروریات کو پورا کرنے کے بعد دو سو درہم کی رقم سے سو درہم باقی بچا ، اب زکوۃ کس مد سے ادا کرے گا یا اس باقی درہم پر زکوۃ نہیں؟

نوٹ: دو سو درہم آج کل کتنا روپیہ بنتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو نصاب  قرض منہا کرنے کےبعدپورا نہ رہے تو ایسے نصاب پر سال گزرنے پر زکوۃ واجب نہیں،لیکن سونا چاندی اور نقدی خواہ کسی بھی نیت سے رکھی ہو سال گزرنے پر اس کی زکوۃ واجب ہے اور سال گزرنے کے بعد ضروریات پر خرچ کرنے سے گزرے سال کی زکوۃ ساقط نہ ہوگی،البتہ سال گزرنے سے پہلے ضروریات پر خرچ کردی جائے یعنی وہ  سامان خرید لیا جائے تو ایسی صورت میں نصاب زکوۃ باقی نہ رہنے کی صورت میں زکوۃ واجب نہیں رہے گی۔

 واضح رہے کہ  دو سو درہم کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کی مالیت کےبرابر ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 6 / ص 455)

( فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد ) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد ، ولو كفالة أو مؤجلا ، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا ، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب ، ولا يمنع الدين وجوب عشر وخراج وكفارة ( و ) فارغ ( عن حاجته الأصلية ) لأن المشغول بها كالمعدوم .

وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه

۔۔۔۔۔۔۔۔لكن قد يقال : المتون موضوعة للاختصار فما فائدة إخراج الحوائج مرتين ، نعم تظهر الفائدة في ذكر القيدين على ما قرره ابن ملك من أن المراد بالأول النصاب من أحد النقدين المستحق الصرف إليها ، فيكون التقييد بالنماء احترازا عن أعيانها ، والتقييد بالحوائج الأصلية احترازا عن أثمانها ، فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول ، وهي عنده ، لكن اعترضه في البحر بقوله : ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة ، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري .ا هـ .

قلت : وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي ، وسيصرح به الشارح أيضا ، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها ، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا ،

رد المحتار - (ج 6 / ص 484)

( وثمنية المال كالدراهم والدنانير ) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۲ذیقعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب