| 87429 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک شخص کے والد اور والدہ کا انتقال ہوا، اس كے ورثاء میں دو لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں، پہلے والد کا انتقال ہوا، والد کے انتقال کے بعد اسی مکان میں رہتے ہوئے والدہ نے دو بیٹوں اور بقیہ چاربیٹیوں کی شادی کرائی۔ پھروالدہ کے انتقال کے بعد ان میں سے دو بیٹیوں کا انتقال ہوا ۔ انتقال کر جانے والی ان دو بيٹيوں کے ورثاء درج ذیل ہیں:
پہلی لڑکی کے ورثاء میں شوہر، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، جبکہ دوسری لڑکی کے ورثاء میں شوہر، پانچ لڑکے اور ایک لڑکی ہے، پھر اس لڑکی کا بھی انتقال ہو گیا، اس کے ورثاء میں شوہر، والد، ایک لڑکی اور پانچ بھائی حیات ہیں۔
وضاحت: شخصِ مذکور کے والدین کی وفات کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھا، نیز والد کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیوی اور ان کی اولاد تھی اور والدہ کے انتقال کے وقت صرف ان کی اولاد ہی وارث تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق شخصِ مذکور کے والدصاحب کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کی ایک بیوی اور اولاد وارث تھی، پھر والدہ کی وفات کے وقت صرف ان کی اولاد وارث تھی، اس لیے اب ان دونوں کا ترکہ ان کی اولاد میں ہی تقسیم ہو گا، لہذا شخص ِ مذکور کے والدین مرحومین نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الاداء ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،البتہ اگر کسی نے بطورِ تبرع یہ اخراجات ادا کر دیے ہوں تو پھریہ خرچہ نہیں نکالاجائےگا، اس کے بعدان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کیا جائے اورپھر کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو ان کی اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے، لہذا کل ترکہ کو نو حصوں میں برابر تقسیم کرکے دو دو حصے دونوں بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ پانچوں بیٹیوں کو دے دیا جائے،تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
2 |
22.222% |
|
2 |
بیٹا |
2 |
22.222% |
|
3 |
بیٹی |
1 |
11.111% |
|
4 |
بیٹی |
1 |
11.111% |
|
5 |
بیٹی |
1 |
11.111% |
|
6 |
بیٹی |
1 |
11.111% |
|
7 |
بیٹی |
1 |
11.111% |
|
8 |
|
9 |
99.999% |
اس کے بعد جب مرحومین کی پہلی بیٹی کا انتقال ہوا تو اس کو اپنے والدین مرحومین سے ملنے والےوراثتی حصے سمیت بوقتِ انتقال اس کی ملکیت میں موجود منقولہ وغیر منقولہ تمام جائیداد اور نقدی وغیرہ ان کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں سے ان کےذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اورجائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھا حصہ ان کے شوہر کو دیا جائے اورباقی ترکہ کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے دو دو حصے دونوں بیٹوں کو اور ایک حصہ ان کی بیٹی کو دے دیا جائے۔
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر |
4 |
25% |
|
2 |
بیٹا |
6 |
37.5% |
|
3 |
بیٹی |
3 |
18.75% |
|
4 |
بیٹی |
3 |
18.75% |
|
5 |
|
16 |
100 |
اس کے بعد جب مرحومین کی دوسری بیٹی کا انتقال ہوا تو اس کو اپنے والدین مرحومین کی طرف سے ملنے والے وراثتی حصے سمیت بوقتِ انتقال اس کی ملکیت میں موجود منقولہ وغیر منقولہ تمام جائیداداورنقدی وغیرہ سب ان کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں سے ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنےاور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھا حصہ ان کے شوہر کو دیا جائے اور باقی تمام ترکہ کو اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر |
11 |
25% |
|
2 |
بیٹا |
6 |
%13.636 |
|
3 |
بیٹا |
6 |
%13.636 |
|
4 |
بیٹا |
6 |
%13.636 |
|
5 |
بیٹا |
6 |
%13.636 |
|
6 |
بیٹا |
6 |
%13.636 |
|
7 |
بیٹی |
3 |
6.818% |
|
8 |
|
44 |
99.998 |
اس کے بعد جب مرحومہ لڑکی کی بیٹی(سوال میں مذکور شخص کے والدین کی نواسی) کا انتقال ہوا تو اس کو اپنی والدہ مرحومہ سے ملنے والے وراثتی حصے سمیت بوقتِ انتقال اس کی ملکیت میں موجود منقولہ وغیر منقولہ تمام جائیداداورنقدی وغیرہ ان کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں سے ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ کو چار حصوں میں برابرتقسیم کر کے دو حصے اس کی بیٹی کو، ایک حصہ والد کو اور ایک حصہ شوہر کو دیا جائے گا، تقسیمِ میراث کا نقشہ یہ ہے:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
والد |
1 |
25% |
|
2 |
شوہر |
1 |
25% |
|
3 |
بیٹی |
2 |
50% |
|
4 |
|
4 |
100 |
واضح رہے کہ جب وفات پانے والی عورت کا شوہر زندہ ہو تو اس وقت اس کے تجہیز وتکفین کا خرچ ترکہ سے نہیں ادا کیا جاتا، بلکہ یہ خرچ شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اس لیے صرف پہلے مسئلہ میں تجہیزوتکفین کے اخراجات ترکہ سے نکالنے کا ذکر کیا گیا ہے،كيونكہ باقی سب میں فوت ہونے والی خواتین کے شوہر وفات کے وقت حیات تھےاوران کے تجہیزوتکفین کا خرچ ان کے خاوندوں کے ذمہ واجب تھا۔
حوالہ جات
القرآن الكريم [النساء: 11]:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ }
القرآن الكريم [النساء: 12]:
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجية في الميراث (1/ 11) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة، فيبدأ بأصحاب الفرائض وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم بالعصبات من جهة النسب، والعصبة كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض وعند الانفراد يحرز جميع المال.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 206) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(واختلف في الزوج والفتوى على وجوب كفنها عليه) عند الثاني (وإن تركت مالا) خانية ورجحه في البحر بأنه الظاهر لأنه ككسوتها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
9/ذوالقعدة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


