| 83753 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں سید معصوم علی شاہ ولد سید مخدوم علی شاہ سکنہ گلشن معمار، کراچی کارہائش پزیر ہوں،میں عرصہ دراز سے NEWZEALAND میں تھا اور میری بیوی، بچے یہاں کراچی میں رہائش پزیر تھے، کرونا وائرس کے دوران میری زوجہ کا قضاء الٰہی سے انتقال ہو گیا،مجھے واپس پاکستان آنا پڑا ،کیوں کہ میرے بچے اکیلے تھے، اس کے بعد چند ماہ گزرے تو گھر میں ایک خاتون کا ہونا ضروری ہوتا ہے تو میرے بچوں اور میرے گھرکی دیکھ بھال کرنے کے لیے میں نے 2022 میں ایک عورت سے نکاح کیا جس کے دو بچے بھی تھے، جن میں اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی تھی ، جب کہ میرے اپنے ( تین بچے ) تھے، جب میرا نکاح ہوا تو کچھ ماہ گزرنے کے بعد اس عورت کی کچھ حرکتیں سامنےآئیں، مثلا: سگریٹ،سوشل میڈیا پر وڈیو بنانا،ٹک ٹاک بنانا،جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ سب میرے گھر میں ہو رہا ہے تو میں نے شرعی طور پرسمجھایا مگر وہ باز نہ آئی،جب کہ نکاح سے پہلے میں نے اس کو پابند کیا تھا کہ شرعی پردہ کرنا ہو گا ،جس پر وہ رضا مند تھی۔ میں نے اپنی دوسری زوجہ مائرہ عزیر کو ہر چیز کی سہولت فراہم کی اور اس کے ساتھ اس کے بچوں کو بھی ایک باپ کی حیثیت سے تمام اخراجات پابندی سے ادا کرتارہا، کبھی کسی چیز کے لئے روک ٹوک نہ کی،جبکہ بغیر کسی وجہ کے یہ عورت گھر چھوڑ کر چلی گئی اور اس کے بعد اس عورت نے کورٹ سے مجھے نوٹس بھیجا جو کہ خلع کا تھا، میں کورٹ میں حاضر ہوااورقانون نے صرف اس عورت سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور کورٹ نے اس وقت یک طرفہ فیصلہ سنادیا، جبکہ دین کے حساب سے میں نے اس کو کوئی طلاق نہیں دی،آپ جناب سے گزارش کرتا ہوں کہ رہنمائی کیجیے، برائے مہربانی مجھے فتوی دیا جائے کہ کورٹ کا جاری کیا ہوا خلع کا حکم شریعت میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت میں خلع کے درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے،دونوں میں سے کسی ایک کی رضا مندی کے بغیر شرعاً خلع درست نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی عدالت یا جج کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ زوجین میں سے کسی کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے۔البتہ چند اسباب ایسے ہیں جوظلم کےزمرےمیں آتے ہیں،جن کے ثابت ہونے پر عدالت نکاح فسخ کرسکتی ہے۔
آپ کے سوال میں چونکہ ایسا کوئی الزام بیوی کی طرف سے واضح نہیں جوظلم کےدائرےمیں آجائےاوراس کی بنیاد پرآپ کی رضا مندی کے بغیرعدالت کی طرف سےدی جانے والی خلع معتبر ہوسکے،لہٰذا اگر مذکورہ سوال کے مطابق آپ کی بیوی نے فقط اس بنیادپرکہ وہ آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، عدالت سے یک طرفہ خلع لیا ہے اورتنسیخ نکاح کےا سباب میں سے کوئی سبب بھی نہیں پایا جارہا تو یہ خلع شرعاًمعتبر نہیں ہےاورآپ کی بیوی بدستور آپ کے نکاح میں باقی ہے، کسی اور جگہ آپ کی بیوی کے لیے نکاح کرنا شرعاً جائزنہیں۔
ضروری وضاحت: چونکہ سائل کے پاس عدالتی فیصلے کی کاپی یا اصل موجود نہیں ہے ،اس لیے مذکورہ جواب مذکورہ سائل کے سوال کے مطابق دیا جارہا ہے،اگر عدالتی فیصلے اور عدالتی کارروائی کی تفصیل مذکورہ سوال سے مختلف ہوتو یہ جواب کالعدم تصور ہوگااور از سرنو جواب معلوم کرنا سائل کے لیے ضروری ہوگا۔
حوالہ جات
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
حاشية ابن عابدين (3/ 498)
قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440):
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90):
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.
والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۳.ذو القعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


