03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گرافک ڈیزائننگ میں تصاویر کے استعمال کا حکم
85733جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

میں ایک کمپنی میں گرافک ڈیزائنر ہوں اور میں وہاں پہ جاب کرتا ہوں ،ہمیں وہاں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم ڈیزائننگ کے اندر خواتین کی تصاویر کو بھی استعمال کریں، مطلب جیسے کہ کوئی ایسا برینڈ ہے جو خواتین کے ملبوسات سے متعلق ہے ،تو اس کے اوپر ہمیں ان کی تصاویر کو استعمال کرنا پڑتا ہے اور ایسے ڈیزائنز بنانے پڑتے ہیں  جس میں عورت کی تصویر کا استعمال ہوتا ہے اور وہ بے پردگی میں ہوتی ہے اور وہاں موڈلز ہوتی ہیں ان موڈلز کی تصاویر کو استعمال کرنا پڑتا ہے اور ہمیں اس کے ڈیزائنز بنانے پڑتےہیں ،بینر ڈیزائن کرنا پڑتا ہے تھمب نیل  ( (Thumbnail بنانا پڑتا ہے اور کوئی سوشل میڈیا پوسٹ بنانی پڑتی ہے تو اس بارے میں رہنمائی کی جائے کہ ہم کیا کریں ہمارا کمائی کا ذریعہ بھی یہی ہے، کیونکہ ہم ہیں ڈیزائنر تو کیا یہ کمائی جائز ہوگی حلال ہوگی یا حرام ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی خاص پیغام کو تحریر، تصویر اور مختلف شکلو ں کے امتزاج سے بہتر طریقے پر پیش کرنے کے کام کو گرافک ڈیزائننگ کہا جاتاہے ۔اگر یہ جائز طریقوں اور  جائز کاموں کے لیے کی جائے تویہ جائز ہے،جیسا کہ کسی جائز کاروبار کرنے والی کمپنی کا ایساLogo بنانا جس میں کوئی ناجائز تصویر وغیرہ نہ ہو،یاکسی جائز کاروبار کا تشہیری مواد تیار کرنا وغیرہ، اور  اگر  گرافک ڈیزائننگ ناجائز کاموں کےلیے کی گئی یا ناجائز طریقے سے کی جائے تو اس سے حاصل کردہ آمدن حلال نہ ہوگی جیسا کہ کوئی ناجائز چیز بنانا،فحش تصاویر بنانا،یاکسی ناجائز کاروبار کا تشہیری مواد تیار کرنا وغیرہ۔

صورت مسئولہ میں  بے پردہ خواتین کی تصاویر کو ڈیزائن وغیرہ میں استعمال کرنے کا عمل ناجائز ہوگا،اور اگر آپ کے کام میں جائز ڈیزائننگ کے ساتھ ساتھ  ناجائز کام  بھی شامل ہو،توناجائز کام کی اجرت کے بقدر آمدن حلال نہیں رہے گی ،لہذا اس قدر رقم بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا اور ساتھ ساتھ متبادل کام کی تلاش بھی جاری رکھیں،لیکن اگر بنیادی طور پر سارا کام ہی بے پردہ خواتین کی تصاویر کے استعمال پر مشتمل ہو، تو یہ تمام عمل ناجائز ہے اور مکمل کمائی  حلال نہ ہوگی ، اس کام سے اجتناب ضروری ہے ۔ملحوظ رہے کہ گرافکس ڈیزائننگ ایک وسیع میدان ہے جس میں صرف  خواتین والی تصاویر بنانا لازمی نہیں ہوتا، لہذا ان کیٹگریز کا انتخاب کرنا شرعاً ضروری ہے جہاں یہ خرابیاں موجود نہ ہوں۔

حوالہ جات

القرآن  الکریم(المائدة:2):

وتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55):

(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح

والملاهي)۔۔۔ وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة ۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

02/جمادی الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب