03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تم آزاد ہو اور میں تیرا شوہر نہیں کے ساتھ طلاق دینے کا حکم
83754طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

 سائل نے گفتگو کے دوران بیوی سے کہا "اگر تم نے فلاں فلاں غلطیاں کیں تو میرے گھر والے جو مرضی کہیں یا کوئی مسائل پیدا ہوئے تو  میری طرف سے آزاد ہوگی "۔سائل کی نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ سائل اپنی بیوی کو اس کے حال پر چھوڑنے کی بات کر رہا تھا کہ کل کو تیری سائیڈ نہیں لوںگا ۔  اس پر بیوی نے کہا کہ میں ہر وہ غلطی کروں گی جس سے تم روک رہے ہو۔ جبکہ میں کہا رہا تھا کہ تم نے اگر فلاں غلطی کی تو تم میری طرف سے آزاد ہو جو مرضی میرے گھر والے تیرے ساتھ کریں یا تم ان کے ساتھ کرو ۔اس کے فوراً بعد میں نے غصے میں کہا کہ" تو میری طرف سے آزاد ہے ،نہ میں تیرا شوہر ہوں نہ تو میری بیوی، تیرا میرا نکاح باقی ہے تو جب چاہے مجھ سے طلاق لے سکتی ہے ۔" اس بات کو لے کر وہ ماں باپ کے گھر چلی گئی اور عدالت  میں کیس کر دیا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی اور نا جائز مطالبات شروع ہو گئےرہنمائی فرمائی جائے کہ طلاق واقعہ ہو گئی ہے یا نہیں ؟ سائل نے یہ بات whatsapp پر عمرہ کرتےہوئے کی۔

تنقیح :سائل نے  ایک سوال بھیجا تھا ، تنقیح کےلیے رابطہ کرنے پر  وہی سوال   کچھ  اہم اضافات کے ساتھ دوبارہ بھیجا  ،اس لیے پہلے والے سوال کو کینسل کرکے اس  دوسرے سوال پر جواب کا مدار رکھا گیا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

" تم آزاد ہو " لفظ کنائی ہے، طلاق کی نیت یا قرینہ پائے جانے کی صورت میں  اس  سے ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے ۔ لہذا صورت مسولہ  میں حالت غصہ میں "تو میری  طرف سے  آزاد ہے، نہ میں تیرا شوہر ہوں  ،نہ تو میری بیو ی ہے  "کہنے پر ایک طلاق بائن  واقع  ہوگئی  ،چاہے آپ کی نیت طلاق کی تھی یا نہ  تھی ۔ طلاق واقع  ہونے کےبعد یہ کہنا لغو اور کالعدم ہے کہ "تیرا میرا نکاح باقی ہے تو جب چاہے مجھ سے  طلاق لےسکتی ہے"۔ لہذادو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدید نکا ح کے بغیر بیوی آپ کے لیے حلا ل نہیں۔

حوالہ جات

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 299):

بخلاف فارسية قوله : ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري. ..ثم فرق بینہ و بین سرحتک فإن ‌سرحتك كناية ،لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح ،فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك ،يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا ؛لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت... وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به كما في فارسية سرحتك ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 300):

ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد... ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة...

والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

04/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب