03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جی پی فنڈ (JPF) پر ملنے والا اضافہ لینے کا حکم
83755سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

 میں ایک سرکاری ملازم ہوں جہاں ادارہ قانون کے مطابق ہر سکیل کے حساب سے  جی پی ایف کاٹتا ہے،میری ملازمت  کو تقریبا ۲۶ سال ہو گئے ہیں ۔جی پی ایف سے ہم اپنی ضروریات کیلئے  ۸۰  فی صد نکا ل سکتے ہیں ۔ لیکن دوبارہ اقساط کی صورت میں واپس کرنا ہوتا ہےااور واپسی پر اس پر جتناانٹرسٹ واپس لگنا ہوتا ہے ،وہ ملازم کے اقساط میں سے وصول کر کے جی پی ایف  میں دوبارہ جمع کرتے ہیں ۔میری انیس سال سروس کے  بعد کچھ دوستوں نے صلاح دی کہ یہ سود کے زمرے میں  آتا ہے ،تو  ہم نے درخواست لکھ دی کہ انٹرسٹ  ختم کرکے صرف کٹوتی کی رقم رہ گئی۔ پھر کچھ مفتی صاحبان اور دوستوں نے کہا کہ GPF سود کے زمرے میں نہیں آتا ،اس پر  دوبارہ درخواست دےکر انٹرسٹ کو بحال کیا اور اب تقریبا سات (7) سال سے اکاونٹ میں GPF کے ساتھ  انٹرسٹ کی رقم جمع ہورہی ہے۔اس میں ہمارے پاس یہی ایک طریقہ ہے  اگر درخواست لکھ دے کہ جی پی ایف پر انٹرسٹ ختم کر دے  تو   انٹرسٹ ختم کرتے  ہیں اور اگر کہے کہ GPF پر  انٹرسٹ  دیتا رہے تو دیتےرہیں گے۔

  براہ کرم  GPF پر اضافی رقم کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ یہ سود کے زمر ے میں  آتا ہے یا نہیں آتا ہے ؟جبکہ رقم  10% کے حساب سے تنخواه سے کاٹی  جاتی ہے اور اسکے ساتھ سے بارہ فی صد  اضافی رقم ادارہ جمع کرتی ہےجس کے ادارہ  جی پی ایف  اور پنشن ادا کرتی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی پی فنڈ اختیار ی ہونے کی صورت میں اس پر ملنے والا اضافہ شرعا  سود نہیں ،بلکہ تنخواہ ہی کا حصہ  ہے ۔لہذا اصل ملازمت جائز ہونے کی صورت میں اصل  رقم پر ملنے والا اضافہ لینا جائز ہے ، تاہم  اس کو ختم کرنا یا لے کر صدقہ کرنا بہتر ہے ۔ لینا اس لیےجائز ہےکہ قبضہ سے پہلےپیسے ادارہ  کی ملکیت ہیں ،لہذا ریٹائر ہونے پر یہ رقم مع اضافہ کےاجرت شمارہوگی۔اور نہ لینا اس لیےبہتر ہےکہ چونکہ ادارہ نے ملازم کی رضامندی سے اس کی رقم  سے کٹوتی کی ہےاور اس پر اس کو اضافہ دے رہا ہےاس لیے  سود کے ساتھ ظاہری  مشابہت پائی جارہی ہے۔ ، تاہم لے کر استعمال کرنے پر ربا کا گناہ نہیں ہوگا۔

 واضح رہےکہ یہ حکم اس صورت میں ہےجب  متعلقہ ادارہ یہ رقم اپنی اکا ونٹ میں رکھتا ہو یا ملازم کی اجازت کے بغیر کسی  دوسرے مستقل ادارے یا  ٹرسٹ کو دے رہا ہو اور اگر وہ ملازم کی اجازت سے کسی مستقل ادارہ  یا ٹرسٹ کو دے رہا ہو تو پھراگر وہ مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں کسی  جا ئز اور حلال کاروبار میں انویسٹمنٹ کرکے اس کے نفع میں سےایک متعین حصہ  ملازم کو دیتا ہوتو اضافہ لینا جائز ہے اور اگر کسی حرام کا روبار میں لگا کر یا قرض لے کر اس پر اضافہ دیتا ہوتو اضافی رقم لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (4/ 668):

حدثنا أبو موسى الأنصاري حدثنا عبد الله بن إدريس حدثنا شعبة عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوارء السعدي قال: قلت: للحسن بن علي ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم: دع ما يريبك إلى مالا يريبك؛ فإن الصدق طمأنينة، وإن الكذب ريبة۔

البحر الرائق (8/ 5):

قال رحمه الله ( والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه ) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة ۔

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

04/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب