| 83765 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والدکاانتقال2007میں ہوا،ان کے پاس دادو کےعلاقہ میں ایک غیرآبادزرعی زمین تھی جوان کی ملکیت تھی،جس کی موجودہ قیمت900000 روپے ہے،ان کی دوبیویاں ہیں،ایک کاانتقال2009 میں ہوا اوردوسری بیوی زندہ ہے،پہلی بیوی کے دوبیٹے اورچاربیٹیاں ہیں،دوسری بیوی کے تین بیٹے اورچھ بیٹیاں ہیں،تین بیٹوں میں سے ایک بیٹا کاانتقال 2014 میں ہوا،یہ غیرشادی شدہ تھا،اس زرعی زمین پرچاربیٹوں نے250000 روپے خرچ کئے ہیں،معلوم یہ کرناہے کہ ترکہ تقسیم کرتے وقت یہ چاربیٹے 250000 روپے کاٹ سکتے ہیں؟
تنقیح:250000 روپے زمین کے دوبارہ کاغذات بنوانے اورقبضہ وغیرہ چھڑانے میں لگے ہیں،اورسب ورثہ کی اجازت سے چاربھائیوں نے لگائے تھے،اس وقت یہ بات طے ہوئی تھی بعد میں سب پرورثہ دیدیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشترکہ زمین کے کاغذات اورقبضہ چھڑوانے پرجورقم لگی ہے سب ورثہ پر ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی،جس کاحصہ زیادہ ہے تواس پرخرچہ کی رقم زیادہ ہوگی،جیسے بھائیوں کوبہنوں کادوگناملتاہے توبھائیوں پر اس زمین پرآنے والاخرچہ بھی دوگناہوگا،حاصل یہ ہے کہ 250000 روپے کاخرچہ تمام ورثہ پران کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا اورجتنی رقم دیگرورثہ کے حصہ میں آرہی ہے اتنی رقم اس میں سے یہ چاربھائی کاٹ سکتے ہیں۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 4 / ص 527):
سئل في عقار لا يقبل القسمة كالطاحون والحمام، إذا احتاج إلى مرمة وأنفق أحد الشريكين من ماله، أجاب: لا يكون متبرعا ويرجع بقيمة البناء بقدر حصته كما حققه في جامع الفصولين، وجعل الفتوى عليه في الولوالجية، قال في جامع الفصولين معزيا إلى فتاوى الفضلي: طاحونة لهما أنفق أحدهما في مرمتها بلا إذن الآخر لم يكن متبرعا، إذ لا يتوصل إلى الانتفاع بنصيبه إلا به۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


