03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوبیوہ،پانچ بیٹے اوردس بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
83767میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ورثہ میں سے ہرایک کاحصہ بتادیں،ورثہ کی تفصیل دوبیویاں،پانچ بیٹے اوردس بیٹیاں ہیں،ایک بیوی سے دوبیٹے اورچاربیٹیاں ہیں،دوسری بیوی سے تین بیٹے اورچھ بیٹیاں ہیں،ایک بیٹے کاانتقال2014 میں والدکے انتقال کے بعد ہواہے اوریہ غیرشادی شدہ تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں،ورثہ میں سے ہروارث کے حصے کی تفصیل درج ذیل ہے:

نمبرشمار

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

فیصدی حصہ

مجموعہ

1

بیوہ

10/160

6.25

6.25

2

بیوہ

10/160

6.25

12.5

3

بیٹا

14/160

8.75

21.25

4

بیٹا

14/160

8.75

30

5

بیٹا

14/160

8.75

38.75

6

بیٹا

14/160

8.75

47.5

7

بیٹا

14/160

8.75

56.25

8

بیٹی

7/160

4.375

60.625

9

بیٹی

7/160

4.375

65

10

بیٹی

7/160

4.375

69.375

11

بیٹی

7/160

4.375

73.757

12

بیٹی

7/160

4.375

78.125

13

بیٹی

7/160

4.375

82.5

14

بیٹی

7/160

4.375

86.875

15

بیٹی

7/160

4.375

91.25

16

بیٹی

7/160

4.375

95.625

17

بیٹی

7/160

4.375

100

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ جس بیٹے کاانتقال ترکہ تقسیم سے پہلے ہواہے تواس کاحصہ اس کے ترکہ میں شامل  ہوکراس کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔ 

حوالہ جات

۔۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

      ۴/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب