03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہن کا اپنی میراث کا حصہ بھائیوں کو بخشنے کے بعد دوبارہ طلب کرنا
83769وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص  فوت ہوا،اس نے اپنے پیچھے دو بیٹے اوردو بیٹیاں چھوڑی ہیں،دونوں بیٹیوں نے اپنا میراث کاحصہ اپنے دونوں بھائیوں  کو بخش دیا،کچھ عرصہ کے بعد انہوں نےبخشش سے انکارکیایا رجوع کرلیا اوراپنا حصہ میراث دوبارہ طلب کرلیا تو کیا  وہ  اس کی حقدار ہیں  یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنا شرعی حصہ سے بلا عوض چھوڑنایا دیگر ورثاء کو بخش دیناشرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائےاور ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کرلے ،اس کے بعد کوئی وارث  اپنا حصہ کسی کوباقاعدہ ہبہ کرنا (بخشنا) چاہےتو  یہ شرعاً جائز اور معتبر ہے۔

اسی طرح کوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو)  صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنا باقی حصہ بخش دےتو یہ بھی درست ہے، اسے اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں۔ان دونوں صورتوں میں پھر ایسے شخص کا اس ترکہ میں حق باقی نہیں رہتا ۔

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بہنوں  ترکہ کی تقسیم سے پہلےبغیر کسی عوض کے  اپناحصہ بخشاتھا تو ان کا یہ بخشنا شرعا ًمعتبر نہیں تھا،بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ ان بہنوں کو ان کا شرعی حصہ مکمل  ادا کریں اوراگر ترکہ کی زمین بھائیوں نے بہنوں کےحصے دئے بغیر  تقسیم کرلی ہو تو وہ تقسیم بھی شرعا  درست نہیں ہے ،یہ تقسیم ختم کرکے  از سر نو نئے سرے سے تقسیم کریں اور بہنوں کو ان کا حصہ دیں ۔ 

اگرمسئولہ صورت میں تقسیم کے بعد اور حصے وصول کرنے کے بعدمذکورہ بہنوں نے اپنا حصہ باقاعدہ ہبہ کیاتھایا ترکہ میں سے کوئی اور چیز لے کر اس کے عوض بقیہ ترکہ میں اپنا حصہ بخشا تھا  تو اس صورت میں ان کااپنا حصہ بخشنا شرعا ًمعتبر تھا، جس کی وجہ سے وہ  اب میراث میں اپنےحصوں کے مطالبہ کی حقدار نہ ہوں گی۔

حوالہ جات

وفی تكملة حاشية رد المحتار - (2 / 208):

لو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه.

وفی لسان الحكام - (1 / 236)

وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.

قال اللہ تعالی:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ} [النساء: 11]

وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 753):

(والعصبة بغيره من فرضه النصف والثلثان) وهم أربع من النساء (يصرن عصبة بإخوتهن ويقسم للذكر مثل حظ الأنثيين) فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] والأخوات لأب وأم بأخيهن والأخوات لأب بأخيهن لقوله تعالى {وإن كانوا إخوة رجالا ونساء فللذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 176]

عن سمرة بن جُنْدب رضي الله عنه قال: قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم : "على اليد ما أخذت، حتى تؤدِّيَه" رواه أهل السنن إلا النسائي.

وفي الدرالمختار (٦/٢٤٢)

 (أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي

(ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة.

وفی شرح المجلة:

بعد تمام القسمة لايسوغ الرجوع۔(شرح المجلة:الباب في بيان القسمة،الفصل السابع في بيان فسخ القسمة،المادة:1157،ج4،ص102)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 6/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب