| 83787 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم!کیافرماتےہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کےبارےمیں کہ مدرسہ سےمتصل ایک پلاٹ خالصہ سرکارموجود ہے،جس پرایک شخص نےتعمیرکرکےتقریبا دس پندرہ سال رہائش اختیارکی ،اور2005 کےزلزلہ میں مکان تباہ ہوگیاتواس نےمتبادل اچھی جگہ خریدکرمکان تعمیرکرکےرہائش اختیارکرلی ،اب مذکورہ پلاٹ کسی دوسرےشخص کو فروخت کردیا،جوکہ ضلع نیلم کارہائشی ہےاورضلع مظفرآباد میں بھی اس کی رہائش موجود ہے، مدرسہ والوں نےمشتری کو قبضہ کرنےسےاس بناءپر روک دیاہےکہ یہ پلاٹ مدرسہ کےمتصل ہے،بائع اورمشتری دونوں کےپاس کوئی کاغذات موجود نہیں ہیں،بائع نےاس پلاٹ پرحفاظت کےلیےتھوڑی بہت حفاظتی دیوارلگادی ہے،مدرسہ کی مداخلت کی بناء پر بائع اورمشتری مداخلت سےبازآگئےہیں،تاہم مدرسہ کےپاس بھی سوائےقبضہ کےکوئی کاغذات موجود نہیں ہیں،صرف یہ دلیل ہےکہ یہ مدرسہ کےمتصل ہےاورمشتری تعمیرات کرنےکےبعد یہاں پرفضولیات (ٹی وی ۔وی سی آر)استعمال کرنےکاخطرہ ہے،ایسی حالت میں مفتی حضرات اس مسئلہ میں شرعی احکامات کی روشنی میں کیافرماتےہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ جگہ سرکارکی ہےاورسرکاری جگہ پر قبضہ کاشرعاحکم یہ ہےکہ حکومت کی اجازت کےبغیرذاتی تصرف میں لانا، گھربناکررہائش اختیارکرنایااسےفروخت کرناجائزنہیں ،شرعایہ ناجائزقبضہ ہی شمارہوگا۔
موجود ہ صورت میں بھی چونکہ قبضہ کرنےوالےنےنہ باقاعدہ حکومت سےجگہ خریدی ہے،نہ حکومت کی طرف سےبعدمیں اجازت لی گئی تھی،لہذااس کی ملکیت ہی شمارنہ ہوگی،اس لیےاس کےبعدبیچنابھی جائزنہیں،اگربیچ بھی دیاہےتوشرعایہ بیع باطل ہے
واضح رہےکہ شرعاجس طرح خریدنےوالےکی اس جگہ پر ملکیت نہیں ہوسکتی ،اسی طرح اس جگہ سےمتصل مدرسہ والوں کا بھی اس جگہ پر ملکیت کادعوی یاکسی بھی طرح قبضہ شرعادرست نہیں ،متعلقہ محکمہ کےضوابط کےمطابق اس جگہ کو قانونی طورپراستعمال کیاجاسکتاہے۔
جب بائع نےسرکاری ملکیت فروخت کی ہےتوایسی صورت میں مشتری کو چاہیےکہ اصل بائع سےاپنی اداکردہ رقم کامطالبہ کرے، کیونکہ اس نےایسی جگہ بیچی،جس پر اس کی ملکیت نہیں ہے۔
مدرسہ والوں پر لازم ہےکہ باقاعدہ سرکار سےمنظوری کرواکر یاتواس جگہ کو مدرسہ کےلیےوقف کروالیں، یاپھر قیمتامدرسے کےلیےخریدلیں۔
حوالہ جات
"الھدایة" ج 3/370 :الغصب فی الشریعة اٴخذمال متقوم محترم بغیر اذن المالک علی وجہ یزیل یدہ ۔۔وعلی الغاصب ردالعین المغصوبة ۔
"سنن الترمذي" رقم: 1233:عن حکیم بن حزام رضي اللّٰہ عنہ قال: نہاني رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن أبیع ما لیس عندي۔
"بدائع الصنائع، کتاب البیوع 4؍339 :ومنہا: أن یکون مملوکًا؛ لأن البیع تملیک، فلا ینعقد فیما لیس بمملوک۔
ومنہا: وھو شرط انعقاد البیع للبائع أن یکون مملوکًا للبائع عند البیع؛ فإن لم یکن لا ینعقد۔
"سورۃ البقرۃ الآية" 188 :
{ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالأثم وأنتم تعلمون۔
"الجامع لأحكام القرآن للقرطبي "2 / 338:الثانیۃ:الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى اللّه عليه وسلم ، والمعنى : لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا : القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق ، وما لا تطيب به نفس مالكه۔۔۔
الثالثة : من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل۔
"صحيح مسلم "ج 5 / 58:عن سعيد بن زيد قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔
" البيهقي فی شعب الایمان " 4 / 387:عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل مال امرىء مسلم إلا بطيب نفس منه۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/ذیقعدہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


