03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرہونہ چیز مرتہن کو معمولی اجرت پر کرائے پر دینا
83796گروی رکھنے کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

زیدنے ایک زمین رہن پر لی،اس کی صورتِ حال یہ ہے کہ زید نے ایک لاکھ روپے زمین کے مالک کو دیے،جب زید زمین واپس کرے گا تو اپنی پوری رقم واپس لے گا، اب اس زمین سے جو منافع حاصل ہورہے ہیں وہ زید استعمال کرتا ہے اورمزید یہ کہ زید مالکِ زمین کو اپنی مرضی کے مطابق سالانہ کچھ رقم مثلا:500 روپے بطورکرایہ دیتاہے،جبکہ اصل زمین کا کرایہ اس سے کہیں زیادہ ہے،لہذا صورتِ مسئولہ کا شرعی حکم واضح فرماکرممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ راہن اگر مرتہن کو مرہونہ چیزمثلاً :زمین کرایہ پر دے دے تو وہ چیز اب مرہونہ نہیں رہے گی، یعنی اس چیز سے رہن کے احکامات ختم ہوجائیں گے ، باقی  چونکہ قرض کا معاملہ  بدستور باقی رہتا ہے؛ لہذا راہن اگر مملوکہ زمین مرتہن کو مروجہ کرائے کی مقدار سے  کم پر کرایہ پر دے گا تو یہ شرعًا سود کا معاملہ ہوگا، اس لیے کہ یہ مرتہن کی طرف سے قرض پر نفع حاصل کرنا ہے ،جوکہ شرعاً جائزنہیں ہے،اس لیے جب تک مرتہن قرض ادا نہ کردے اس وقت تک راہن کے لیےمرہونہ چیز مرتہن کو عرف میں رائج کرائے کی مقدار کے موافق کرائے  پر دینا ہوگا،کم پر دینا صحیح نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں سالانہ کرایہ 500 مقررکرنا مروجہ کرائے سے کم ہے، لہذا یہ سودی معاملہ ہےاورجائزنہیں ہے،اگراس کا کرایہ بڑھاکرمروجہ کرائےکے برابر کردیا جائے تو یہ معاملہ سودسےنکل جائےگا اوردرست ہوجائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (5/ 462):

"وتصرف الراهن قبل سقوط الدين في المرهون إما تصرف يلحقه الفسخ كالبيع والكتابة والإجارة والهبة والصدقة والإقرار ونحوها، أو تصرف لا يحتمل الفسخ كالعتق والتدبير والاستيلاد أما الذي يلحقه الفسخ لا ينفذ بغير رضا المرتهن، ولا يبطل حقه في الحبس".

النتف في الفتاوی  (ص: ٤٨٤، ٤٨٥):

"أنواع الربا: وأما الربا فهو علی ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الدیون، والثالث في الرهون. الربا في

القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یوٴجره أو یهبه…، ولو لم یکن سبب ذلک (هذا ) القرض لما کان (ذلک )الفعل، فإن ذلک رباً، وعلی ذلک قول إبراهیم النخعي: کل دین جر منفعةً لا خیر فیه".

وفی الشامیة (ج۵ص۳۱۰،۳١١):

  لاَ یَحِلُ لَہ اَنْ یَنْتَفِعَ بِشَیٍٴ مِنہ بِوَجْہٍ مِنَ الْوُجُوہِ اِنْ اَذِنَ لَہ الْرَّاھِنُ لانَّہ اَذِنَ لَہ فیِ الْرِبَوا (.......وَالْغالِبُ مِنْ اَحْوَالِ النَّاسِ اَنَّھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُونَ عِنْدَ الْدَفْعِ اَلاِنْتِفَاعَ وَلَولَاہ لَمَا اَعْطَاہ الْدَّرَاھِمَ وَھٰذا بِمَنْزِلَةِ الْشَرْطِ لِاَنَّ الْمَعْرُوفَ کَالْمَشْرُوطِ وَھُوَ یُعِیْنُ الْمَنْعَ (

وفي البحرالرائق:

قال رحمه الله (ولا ينتفع المرتهن بالرهن استخدامًا وسكنى ولبسًا وإجارة وإعارة) لأن الرهن يقتضي الحبس إلى أن يستوفي دينه دون  الانتفاع فلا يجوز لانتفاع. (كتاب الرهن: 8/438، رشيدية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

٦/١١/۱۴۴۵ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب