| 83813 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میری بیوی بداخلاق ہےاور گھریلو کام میں دلچسپی نہیں لیتی تھی،اس وجہ سےمیں اسےاس کےچچا کے گھرچھوڑ آیا کہ اسےسمجھاؤبجھاؤ،پھرمیں اسےلےجاؤں گا،تواگلےدن لڑکی کےچچا چچی اس کو بغیر سمجھائے بجھائے لےآئے، میں نے کہا کہ آپ اس کو لیکر آئے، آپ اس کو سمجھاتے بجھاتےمیں خود اس کولینے آجاتا تو انہوں نے جوابا کہا کہ آپ اس کو طلاق دے دیں، ہم اس کو والدین کے پاس چھوڑ آئیں گے، لڑکی نے کہا کہ مجھے معاف کردو ۔آئندہ میں شکایت کا موقع نہیں دونگی، لیکن اس کے چچا چچی اپنے موقف پر اصرار کرتے رہے اور میرے گھر پربندوں کو بلانے کا بھی کہا اورا گلی دفعہ میرا شناختی کارڈ بھی لے گئے کہ ہم اس کو ہسپتال میں چیک اپ کے لیے لے کر جائیں گے، ان کی نیت حمل ضائع کرنے کی تھی، واضح رہے کہ اس وقت میری بیوی ۳ ماہ کی حاملہ تھی، مزید انہوں نے یو سی اور ہیومن رائٹس سے رابطہ کر کے کہا کہ لڑکی کو طلاق دے کر فارغ کردو، میری بیوی کے چچا نے مجھے ذہنی ٹینشن دی اور غلط ماحول پیدا کیا ، میری بیوی کے ساتھ وہ صلح کی نیت سے آرہے تھے اور مجھ سے طلاق مانگ رہے تھے، جب میں نے تنگ آکر، دو گواہوں کے سامنے دستخط شدہ اسٹامپ پر دستخط کر کے تحریری طلاق دے دی، جبکہ زبان سے طلاق نہیں دی تھی،پھر جب چچا چچی نے لڑکی کو جعلسازی کر کے طلاق دلوادی، اس کا حق مہر جو دیا تھا وہ بھی یہ دونوں کھا گئے ، طلاق کے دو ماہ بعد لڑکی نے فون کیا کہ مجھے لیکر جاؤ ، میں نے کہا تمہارے چچا چچی نے طلاق دلوا کر کونسا اچھا کام کیا۔ میری بیوی نے جوابا کہا آپ مفتی حضرات سے اس مسئلہ کا حل پوچھ لیں کہ اس طرح زور زبردستی سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟ طلاق کے بعد بیوی کے والدین نے کہا کہ تم نے اتنا بڑا اقدام اٹھایا ، ہمیں ذرا بتا تو دیتے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سؤال میں مذکورصورت حال کےمطابق دستخط کرنےسےطلاق ہوچکی ،اس لیے کہ زورزبردستی سے طلاق نامہ پردستخط شرعا تب معتبرنہیں ہوتاجہاں کسی کی طرف سےمعاشرتی،معاشی یا جسمانی سزاسے متعلق ایسا دباؤ پایا جائےجس کے تحمل کی استطاعت نہ ہو یا اس کی وجہ سے عزت کو سنگین خدشات لاحق ہوں یا زندگی غیر معمولی مشکلات کی شکار ہوجاتی ہو،نیز اس قسم کا دباؤ ڈالنے والا اس کو نافذ کرنے پرقادربھی ہو تو ایسی صورت میں تحریری طلاق نہیں ہوتی،جبکہ سؤال میں مذکورحالت جبر یازور زبردستی کی نہیں،بلکہ یہ حالت خلاف مرضی دستخط کرنے کی ہےاوراس سےبھی طلاق ہوجاتی ہے،البتہ اگر تین طلاق نہیں دی تھی تو طلاق رجعی کی صورت میں عدت کے اندرفعل یا زبان سے رجوع کر کے اور عدت کے بعدآپس کی رضامندی سے نکاح کر کے بیوی کو دوبارہ نکاح میں لے سکتے ہیں، لیکن ایک طلاق کی صورت میں آئندہ دو طلاق کا اور دو طلاق دینے کی صورت میں صرف ایک طلاق کا حق آپ کو رہے گا۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۶ذیقعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


