03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق مغلظہ کے بعد حلالے کے لئے زوج ثانی سے فقط نکاح کافی نہیں
83803طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

زید نے ایک مطلقہ سے نکاح کیا جو تقریبا دو ماہ تک رہا،اس کے بعد زید نے اسے طلاق دے دی،لیکن ان دو مہینوں کے دوران ان کا جسمانی تعلق قائم نہیں ہوا،ان پر کسی کا کوئی دباؤ بھی نہیں تھا،کیا یہ مطلقہ اب اپنے پہلے والے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر پہلے شوہر نے اس عورت کو طلاق مغلظہ(تین طلاقیں) دی تھی تو اب بھی یہ سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتی،کیونکہ طلاق مغلظہ کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کی حلت کے لئے دوسرے شخص سے فقط نکاح کرلینا کافی نہیں،بلکہ ہمبستری شرط ہے،جو مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی۔ تاہم اگر پہلے شوہر نے طلاق مغلظہ نہیں دی تھی تو پھر عدت گزارنے کے بعد سابقہ شوہر سے نکاح جائز ہوگا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع "(3/ 188):

"ومنها الدخول من الزوج الثاني، فلا تحل لزوجها الأول بالنكاح الثاني حتى يدخل بها، وهذا قول عامة العلماء".

"الدر المختار " (3/ 409):

" (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذكما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

07/ذی قعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب