03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجتماعی پارک میں مسجد بنانے کا حکم
83833وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرا م اس مسئلے کے با رے میں:

 ہم ایک  پرائیویٹ سوسائٹی کے مکین ہیں ، جو تقریبا سات سو گھروں پر مشتمل ہے۔ اس سوسائٹی کے شروع میں اس کی اپنی ایک مسجد ہے جو کہ ہمارے گھروں سے تقریبا 15 پندرہ منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے گھر سے قریب تقریبا 5  منٹ کے فاصلے پر سوسائٹی سے باہر ایک مسجد ہے جس کے لئے سوسائٹی والوں نے دروازہ کھولا تھا تاکہ سوسائٹی کے آخری کونے کے لوگ یہاں جاکر نماز پڑ ھ سکیں۔ اس مسجد کی صورتحال یہ ہے کہ یہ مسجد اسی مسجد کے امام صاحب نے اپنی ذاتی جگہ خرید کر بنائی تھی۔ لوگ یہاں کے امام صاحب کے اخلاق سے بہت تنگ ہیں۔ جب سے یہ مسجد بنی ہے، امام صاحب مستقل بنیادوں پرلوگوں کو کسی نہ کسی بات پر بری طرح ذلیل کرتے رہتے ہیں، ہر کچھ دن بعد کسی بھی نمازی پر غصہ ہوکر اسے مسجد سے نکال دیتے ہیں کہ آئند ہ مسجد مت آنا ،یہاں سے نکل جاؤ ،میرے پیچھے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، تمہاری نماز میرے پیچھے نہیں ہوتی۔ ہر کچھ دن میں یہ سننے کو بھی ملتا ہے کہ یہ میری ذاتی جگہ ہے ،میں اسے کا رخانہ بنا رہا ہوں ،اب یہاں کوئی نماز کے لئے نہ آئے۔امسال رمضان میں توحد ہوگئی ،کسی نوجوان سے امام صاحب کی لڑائی ہو گئی  تو غصے میں آکر پوری مسجد کے نمازیوں کو کہا  کہ تم بے غیرت ہو ،تمہارے سامنے امام کی بے عزتی ہوئی، تم خاموش ہو۔لہذا آج اس مسجد میں آخری نماز ہوگی، اگلی نماز سے کوئی بھی یہاں نہ آئے،  پھر نماز پڑھائی ا ور تمام نمازیوں کو ا نتہائی ٖغیر مناسب طریقے سے مسجد سے باہر نکال دیا ا ور کہا  کہ یہا ں آئندہ کسی کو آنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد تمام نمازیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ہم اس مسجد میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ مشورہ کیا گیا کہ ہماری سوسائٹی میں متین پارک  ہیں  ا ور سوسائٹی کے آخر میں تیسرے پارک کے قریب کی تمام  آبادی  سوسائٹی کی اندر کی مسجد سے کچھ دو رہے جس کی وجہ سے ضعیف العمر ا ور مریض افراد بالخصوص مسجد جانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، لہذا ہم تیسرے پارک کے قریب کے محلے کے تمام لوگ باہمی رضا ء مندی سے بلڈر کو درخواست لکھیں کہ ہمیں سوسائٹی کے درمیا ن ایک جگہ جو پہلے سے مسجد کے لئے مختص ہے، وہاں مسجد بنانے دی جائے۔ اس پر جب بلڈر کے نمائند وں  سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا اس مسجد پر بریلوی حضرات نے رجسٹریشن کرا رکھی ہے اوراس پر مسلکی تنازع ہے۔ اس پر ہم نے کہا کہ ہمارے گھر کے قریب جو تیسرا پارک ہے اس کے چوتھائی حصہ پر مسجد بنا دی جائے کیوں کہ یہاں کثیر آبادی مسجددور ہونے کی وجہ سے متاثر ہے۔ جس پر بلڈر کے نمائندہ حضرات نے فرمایا کہ یہ قانونی طور پر مشکل ہے بہرحال آپ ہمیں در خواست لکھ د یں۔ ہم نےپارک کے ا ردگرد کے تمام حضرات سے درخواست پر سائن کرالئے ا ور تیسرے پارک کے قر یب کی آبادی کے متفقہ فیصلے سے ہم نے مشورہ کیا کہ درخواست لکھنے کے ساتھ ساتھ ہم تیسرے پارک میں نماز شروع کردیتے ہیں ا ور اس کی اجازت ہم نے بلڈر کے نمائندہ سے بھی زبانی لے لی۔ ا یسا کرنے میں ہماری چند نیتیں تھیں:

1.       جو لوگ مرض یا سستی کی وجہ سے جماعت میں شریک نہیں ہوتے وہ بھی جماعت میں شریک ہوجائیں؛

2.       اس جگہ جب لوگ کثرت سے نماز میں شریک ہوں تو بلڈر کو اہل محلہ کی ضرورت کا احساس ہو ا ورجلد اللہ کے گھر کی تعمیرہو۔

3.       جو افراد تبلیغ کے اعمال سے جڑے ہوئے تھے انہیں اپنے اعمال کرنے کے لئے مستقل جگہ مل جائے ؛

 اب ہماری سوسائٹی کے کچھ لوگ جو ہمارے پارک سے دور ر ہتے ہیں وہ یہ اعتراض کررہے ہیں کہ یہ جگہ پارک کے لئے مختص ہے ،ایسا قبضہ کرکے نماز پڑھنا گناہ کا کام ہے ا ور  ا یسا کرنے سے وہاں نماز نہیں ہوتی۔ دوسرا ا ن کا کہنا ہے کے یہ لوگ دور چل کر آئیں ا ور نماز پڑھیں اس کا زیادہ ثواب ہے،جبکہ ہما رے محلہ کے ساتھی ذاتی طور پر دور جانے میں مشقت محسوس کرتے ہیں، اکثر پابند ساتھیوں کو بھی جانے کے لئے کار یا موٹر سائیکل کا استعمال بھی کرنا پڑتاہے۔

          سوا ل عرض ہے کہ:

1.       کیاایسا کرنے سے ہماری نماز نہیں ہوتی جبکہ پارک کے ا ردگرد کے تمام لوگ اس پر راضی ہیں ا ور تقریبا فی الوقت ستر اہل محلہ درخواست پر سائن کرچکے ہیں۔

2.     کیا  ہم دور والی مسجد نہ جانے سے گناہ گار ہورہے ہیں۔

3.      کیا بلڈر ہمیں اجازت نہ د ے تو ا س صورت میں ہم پارک کے ا ردگرد افراد باہمی رضامندی سے ا س پارک میں مسجد بنا سکتے ہیں؟ کیوں کہ اہل محلہ کا کہنا ہے کہ پلاٹ بیچتے وقت بلڈر نے ہم سے فائل میں پارک،  مسجد وغیرہ کی مد میں پیسے کاٹے ہیں، لہذا اب یہ پارک اہل محلہ کی ملکیت ہے جس کی وجہ سے اب ہم اپنی مرضی سے تعمیر کرسکتے ہیں،اگرچہ بہت کم تعداد اہل محلہ کی ہماری رائے کے خلاف ہو۔

4.      بلڈ رکے اجازت نہ دینے کی صورت میں ہم اس پارک میں عارضی مصلی بنا سکتے ہیں،  نیز اس مصلے کے لئے چاردیواری لگا سکتے ہیں؟

 چند امور کی وضاحت ضروری ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

•        جس وقت اس سوسائٹی میں پلاٹ ہم نے خریدے تھے ، پلاٹ کے علاوہ ہم سے کمیونٹی پلاٹس کی رقم بھی موصول کی گئی تھی جس میں مسجد، پارکس، کمیونٹی سینٹر، نرسری وغیرہ بھی شامل تھے ۔

•        اس کے علاوہ ہم سے ڈیویلپمنٹ چارجز کی مد میں رقم وصول کی گئی جس میں سڑکیں،  بجلی،  سیوریج کی رقم شامل تھی ،لیکن ان میں سے ایک سہولت بھی بلڈر کی جانب سے ہمیں نہیں دی گئی ا ور یہ سارے کام اہل محلہ نے اپنی مدد آپ کے کئے۔ لیز کی رقم  ہم سے وصول کی گئی لیکن اب تک صرف  چندگھروں کو لیز دی گئی ہے۔ پچھلے 26 سال سے بلڈر صرف اس لئے یہاں بیٹھا ہے کہ لوگوں کو لیز کرا کر د ے گا ،جبکہ ہر پلاٹ کی خرید و فروخت پرٹرانسفر کی فیس وصول کرتا ہے جس سے اس کا فائم ہے ا ور لوگ تمام تر رقم کی ادائیگی کے بعد بھی اس کے محتاج ہیں۔

•        پچھلے 26 سال سے سوسائٹی کے نقشہ پر جو مسجد بالکل درمیان میں ہے وہاں  نہ خود مسجد  بنا رہا ہے،  نہ بنانے دے رہا ہے۔اس سے بلڈر کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ دار یوں کی ادائیگی میں کتنا سنجیدہ ہے!

.        اس سوسائٹی میں کل تین پارک ہیں۔ ہم نے جو مصلی بنایا ہے وہ سوسائٹی کے تیسرے  پارک میں جو کہ بالکل آخر میں ہے،اس کے چوتھائی سے بھی کم حصہ پر بنایا ہے،بقیہ تین چوتھائی سے بھی زیادہ جگہ سے  پارک کی ضرورت بھی پوری ہورہی ہے ا ور چوتھائی پر مسجد بنانے سے مسجد کی ضر ورت بھی۔  پوری سوسائٹی میں کل سات سو گھر ہیں جس میں سے 70 فیصد ایک محتاط اندا ز ے کے مطابق اس مصلی کے حامی ہیں،  ا ور زیادہ سے زیادہ  تیس فیصد اس کے مخالف ہوں گے۔ نیز جو لوگ مخالفت کررہے ہیں وہ بھی اس وجہ سے نہیں کہ پارک کی متعلقہ جگہ کی ا ن کو ضرورت یا حاجت ہے، بلکہ یہ لوگ کبھی اس پارک میں آتے ہی نہیں ہے،  ا ور پارک فی الحال اجاڑ ہوچکا ہے، جسے ہم اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ بنا رہے ہیں۔

  • پارک کی ضرورت پورا ہونے ا ور مزید سوسائٹی پرائیویٹ ہونے کی وجہ سے حکومت کے عمل دخل کا بھی امکان نظر نہیں آتا کہ مسجد بننے کے بعد حکومت کے گرانے کا کوئی خدشہ ہو۔
  • اس سے پہلے یہ پارک بالکل کھنڈر بنا ہوا تھا ا و ررات میں یہاں باہر سے بھی لوگ آکر نشہ کرتے  ا ور بدفعلیاں ہوتی۔
  •  اس وقت یہاں 125 سے 150 افراد تمام نمازوں میں شریک ہورہے ہیں جن کا کسی ایک گھر میں آنا مشکل ہے۔

          تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ  فائل بیچنے کےبعد مسجد وغیرہ کی مد میں رقم وصول کرنےکےبعد  بلڈروہ زمین نہیں بیچ سکتا ، اس میں وراثت جاری نہیں  ہوتی ، موجودہ مالکان میں سےکوئی گھر بیچنا چاہےتو  بلڈر  مسجد و پارک وغیرہ کی مد میں  نئے خریدار سے دوبارہ رقم وصول نہیں کرسکتا ۔نقشہ کےمطابق ہسپتال اور مسجد کےلیےزمین دو پلاٹ  مختص کیے گئے تھے لیکن بلڈر مسجد کےلیےمتعین کردہ پلاٹ کی نشاندہی نہیں کررہا ہے۔سائل نےمزید بتایا  کہ ہم نے ایس پی اور پولیس کو  مسئلہ حل کرنے کےلیےبھی بلایا تھا  ، انہوں نے آکرکہا کہ ہم ان مسائل میں نہیں پڑتے ، اہل محلہ خود مل بیٹھ کر اس  کو حل کرے ۔ جس سے یہ ثابت ہورہا ہےکہ قانونی لحاظ سے پارک کو مسجد  بنانے میں کوئی مشکل نہیں۔سائل کےبقول بلڈر کے ٹال مٹول کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی   ہےکہ ہم سے مسجد کی مد میں رقم وصول کر کے اب مسجد کی تعمیر اس کی ذمہ داری ہے، جس کےاخراجات سے جان چھڑانے کےلیے وہ طر ح طرح کےبہانے کررہاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مسجد  ، پارک وغیرہ کی مد میں ادا کردہ رقم ان کی قیمت ہے،لہذا یہ جگہیں اس سوسائٹی کےتمام رہائشیوں  کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اس لیےمسجد بنانے کےلیے تمام مکینوں کی رضامندی شرط ہے، بلڈر کی اجازت ضروری نہیں  ۔  سوالات کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:

1.        صور ت مسولہ میں چونکہ تمام رہائشی اس کو عارضی مصلی یا مسجد بنانے پر راضی نہیں ،چاہےاس کی وجہ کوئی بھی ہو ، اس لیے یہاں نماز پڑھنے پر گناہ ہوگا  ،چاہےنماز شروع کرنے کی وجہ کوئی بھی ہو،تاہم  نماز اد ا ہو جائے گی ۔

2.      چونکہ  اس جگہ نماز پڑھنا جا ئز نہیں ،اس لیے تندرست  لوگوں پردور کی مسجد میں  جانا لازمی ہے، تاہم اگر کوئی شرعی عذر کی بناء پر دور کی مسجد میں  نہیں جاسکتا ہو تو اس پر جانا لازم نہیں۔

3،4.    بلڈر کو اس جگہ عارضی مصلی یا مسجد بنانے کا کوئی اختیار نہیں ،لہذا اگر تمام سوسائٹی والے اس کو مسجد یا عارضی مصلی بنانے پر راضی ہو ں تو یہاں مسجد اور عارضی مصلی دونوں بنانا جائز ہے ، بلڈر کو منع کرنے کا کوئی حق نہیں  ۔

وقف کےصحیح ہونےکے لیےموقوفہ چیز  کی تعیین لازمی ہے۔ صورت مسولہ میں بلڈر نے مسجد اور ہسپتال کےپلاٹوں میں سے مسجد کی پلاٹ کی تعیین کیے بغیر پیسے وصول کیے ہیں ،اس لیے متعین کردہ پلاٹوں میں سے کوئی پلاٹ وقف نہیں کہلائے گا ۔ اہل محلہ ان میں سے جس پلاٹ پر باہمی رضامندی سے مسجد بنانا چاہے،وہا ں مسجد بنانا  جائز اور بلڈر کےذمہ لازم ہے، مسجد تعمیر نہ کرنے  پر کورٹ میں اس کےخلاف  دعوی دائر کیا جاسکتا ہے۔اس طرح  مسلکی تناز ع سمیت تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے فی الفور اقدامات  اٹھائے جائیں۔ اگر مسلکی تنازع کی وجہ سے  مسئلہ حل نہ ہورہا ہواور فتنہ پھیلنے کا خدشہ ہوتو سوسائٹی والوں کو چاہیےکہ جو جو یہاں بریلوی حضرات کے مسجد  بنانے پر راضی  نہیں ہیں، وہ  اس  پلاٹ میں  اپنے حصہ سےدستبردار ہوکر اس کی جگہ ذکرکردہ   پارک میں ان سے متبادل جگہ لے  لیں۔

 سوسائٹی سے باہر واقع  مسجد کی حیثیت  اب تبدیل نہیں کی جاسکتی ، تاہم اما م صاحب کو چاہیےکہ  وہ  مقتدی حضرات کے ساتھ شائستگی سے پیش آئے اور لوگو ں کو دین  سے قریب کرنے کی کوشش کرے ۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار مع رد المحتار (55/2)

وكذا تكره في أماكن كفوق كعبة….. وأرض مغصوبة أو للغير وفى حاشية ابن عابدين: بنى مسجداً على سور المدينة لا ينبغي أن يصلي فيه؛لأنه حق العامة فلم يخلص للّٰه تعالى كالمبني في أرض مغصوبة .

وفی الفتاوى الهندية:(121/1)

الصلاة فى أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين اللّٰه تعالي يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب كذا فى مختار الفتاوى،الصلاة جائزة فى جميع ذالك لاستجماع شرائطهاواركانها وتعاد على وجه غير مكروه وهو الحكم فى كل صلاة أديت مع الكراهة كذا في الهداية،فان كانت تلك الكراهة كراهة تحريم تجب الإعادة أو تنزيه تستحب فإن الكراهة التحريمية في رتبة الواجب كذا في فتح القدير

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 340):

(وشرطه شرط سائر التبرعات) كحرية وتكليف (وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا إلا بكائن، ولا مضافا، ولا موقتا ولا بخيار شرط، ولا ذكر معه اشتراط بيعه وصرف ثمنه، فإن ذكره بطل وقفه بزازية. (قوله: معلوما) حتى لو وقف شيئا من أرضه ولم يسمه لا يصح ولو بين بعد ذلك، وكذا لو قال وقفت هذه الأرض أو هذه، نعم لو وقف جميع حصته من هذه الأرض ولم يسم السهام جاز استحسانا، ولو قال: وهو ثلث جميع الدار فإذا هو التي كان الكل وقفا كما في الخانية نهر أي كل النصف وفي البحر عن المحيط: وقف أرضا فيه أشجار واستثناها لا يصح لأنه صار مستثنيا الأشجار بمواضعها فيصير الداخل تحت الوقف مجهولا.

الفتاوى الهندية (2/ 355):

(ومنها) عدم الجهالة فلو وقف من أرضه شيئا ولم يسمه كان باطلا ولو وقف جميع حصته من هذه الدار ولم يسم السهام جاز استحسانا ولو وقف هذه الأرض أو هذه الأرض وبين وجه الصرف كان باطلا كذا في البحر الرائق

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 338)

(وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

09/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب