| 83811 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے سسرمرزا محمد شفیق مرحوم کا انتقال 1990ء میں ملتان میں ہوا تھا ،اس وقت ان کے ورثہ میں ایک بیوہ، چاربیٹیاں اورتین بیٹے موجود تھے ۔
کچھ عرصہ کے بعد میری ساس کے والد نے ایک مکان جوکہ میرے سسرکا ملتان میں تھا وہ فرخت کردیا اوراس میں کچھ اوررقم اپنی طرف سے ملاکر کراچی قصبہ کالونی میں ایک مکان خریدکرمیری ساس بیوہ ،چاربیٹیاں اورتین بیٹوں کے نام اس میں شامل کردیاتھا کہ یہ سب اس مکان کے حصہ دارہیں۔
مندجہ بالاورثہ میں سے ایک بیٹا بعمر9سال اوربڑٕی بیٹی(جوکہ میری زوجہ تھی) کابھی انتقال ہوگیا ہے اوران کی دو بیٹیاں بھی موجود ہیں ،
اس وقت بیوہ ساس کے علاوہ تین بیٹیاںاوردو بیٹے اوردو نواسیاں مرحومہ بیٹی کی اولاد اوراس کے شوہرموجود ہیں۔
اس جائیداد پر مرحوم کے دونوں بیٹوں نے اپنے خرچ پر تعمیررات کروائی ہیں ،اس وقت پرانے کنڈیشن کے مکان کی قیمت جیسا کہ پہلے بنا ہوا تھا مبلغ ساٹھ لاکھ روپے لگواکر ایک شرعی فتوی حاصل کرکے اس کے مطابق تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں، جبکہ اسوقت تعمیر شدہ مکان کی قیمت مبلغ ساٹھ لاکھ روپے سے دوگناہ زیادہ ہے ۔پوچھنایہ ہےکہ
1١۔ کیایہ جائیداد میرے سسرمرحوم کی میراث کہلائے گی ؟
2۔ کیا اس جائیداد کی تقسیم مرحوم سسر کی بیوہ ،چاربیٹیوں اوردو بیٹوں میں کے درمیان بربرا ہوگی یا شرعی حصوں میں فرق ہوگا ۔
ورثہ کی تفصیل اورموت کی ترتیب درج ذیل ہیں:
سب سے پہلے مرحوم مرزامحمدشفیق کا انتقال 1990میں ہوا ،اوراس کی موت کے وقت اس کے درجِ ذیل ورثہ زندہ تھے:
بیوی ،تین بیٹے،اورچاربیٹیاں ۔
اس کے بعدمرحوم مرزامحمدشفیق کےنو سالہ بیٹے کا انتقال ہوا اورموت کے وقت اس کے درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
والدہ ،دو بھائی اورچاربہنیں۔
اس کے بعدمرحوم مرزامحمدشفیق کی بڑی بیٹی جوکہ مرحوم بیٹے کی بڑی بہن بھی ہےکا انتقال ہوا اورموت کے وقت اس کے درج ذیل ورثہ زندہ تھے:
شوہر،والدہ ،دوبیٹیاں،تین بھائی اوردو بہنیں۔
برائےکرم یہ وضاحت فرمائیں کہ ان سب ورثہ میں میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟
سائل نےفون پر وضاحت کی کہ ساس کے والدنےقصبہ کالونی میں مکان خریدنے کےلیے جوتھوڑی رقم ملائی تھی وہ انہوں نےبطورتعاون ملائی تھی، واپس لینے کا ارادہ نہیں تھا اوراس میں بیٹی،نواسوں اورنواسیوں کوبرابر سرابر شریک کرنا مقصد تھا۔
نیز سائل نے وضاحت کی کہ مرحوم مرزاشفیق کے دونوں بیٹوں نے اپنے خرچ پر جو تعمیرات کی تھیں وہ انہوں نے صرف اپنے لیے کی تھیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١،۲۔ صورتِ مسئولہ میں مذکورمکان کی موجودہ قیمت لگاکر سب پہلے اس سے ساس کی والد کی طرف سے لگائی گئی رقم کی تناسب سے رقم نکال کر بیٹی،نواسوں اورنواسیوں میں برابرتقسیم کی جائےگی۔اورپھر دوبیٹوں نے جوتعمیرات کی تھیں اس کی موجودہ ویلیوں کے حساب سے صرف تعمیرکی قیمت نکال کران دو بیٹوں کودی جائے گی اوراس کے بعدجو باقی بچے وہ ترکہ ہے جو ورثہ میں درج ذیل طریقے سے تقسیم ہوگا۔
چونکہ مسئولہ صورت میں تین لوگ یکے بعددیگرےفوت ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے وارث ہیں، لہذاموجودہ صورت میں مرحومین کے مال میں سے جن جن ورثاء کوجو جوحصہ ملے گا،آسانی کے لیے ذیل میں اس کاجدول ملاحظہ ہو۔
مورث اعلی مرزا محمدشفیق/ کل مال :100
|
دیگرتفصیل |
فیصدی حصہ |
مورث اعلی سے رشتہ |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
خاوند،بیٹے اوربیٹی سے |
17.044٪ |
زوجہ |
بیوہ |
1 |
|
والداوربھائی سے |
21.145٪ |
بیٹا |
بیٹا1 |
2 |
|
والداوربھائی سے |
21.145٪ |
بیٹا |
بیٹا2 |
3 |
|
والداوربھائی سے |
10.573٪ |
بیٹی |
بیٹی1 |
4 |
|
والداوربھائی سے |
10.573٪ |
بیٹی |
بیٹی2 |
5 |
|
والداوربھائی سے |
10.573٪ |
بیٹی |
بیٹی3 |
6 |
|
بیوی سے |
2.439٪ |
داماد |
داماد |
7 |
|
والدہ سے |
3.254٪ |
نواسی |
نواسی1 |
8 |
|
والدہ سے |
3.254٪ |
نواسی |
نواسی2 |
9 |
|
|
100٪ |
|
ٹوٹل: |
واضح رہے کہ یکے بعد دیگرے ورثہ کے فوت ہونے کی صورت میں دوسری میت سے آخر تک کے اموات کوپہلی میت سے بھی ملتاہے اورعام طورپر فوت ہونے کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں بھی کچھ نہ کچھ مال ہوتاہے تو جب ان کا مال تقسیم ہوتوپہلی میت سے ملنے والے مال کے ساتھ اس کے دیگرذاتی اموال کو بھی ملایاجاتاہے جو بوقت موت ان کی ملکیت میں ہوتاہے، لہذا مسئولہ صورت میں دوسری میت مرزا محمدشفیق کے چھوٹے بیٹے سے لیکر آخری میت مرزا محمدشفیق کے بڑی بیٹی تک جتنے ورثہ فوت ہوئےہیں ، ان کی میراث تقسیم کرتے وقت دونوں مالوں(پہلی میت سے ملنے والااوراپنا) کو جمع کرلیا جائےگا،اورپھر کل مال جتنا بھی ہوجائے اس کوورثہ میں تقسیم کیاجائے گا، تقسیم کا طریقہ کار وہی ہوگاجو اوپر مذکورہوا ۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات
بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْن.... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا...} [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


