03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کےموقع پر ڈیجیٹل تصویر نکالنے کا حکم
83827جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

ہم نے سنا ہےکہ   موبائل سے ڈیجیٹل  تصویر بنانا جائز ہے، کیونکہ وہ تصویر کے حکم میں نہیں۔ تو اس اباحت کو دیکھتے ہوئے  کیا شادی میں ڈیجیٹل موبائل یا ڈیجیٹل کیمرے سے  فوٹو شوٹ کرنا جائز ہے؟ کیونکہ اب اس میں بہت  سے لوگ اجازت  عام سمجھ کر پوری تقریب کی فوٹوشوٹ کرتے ہے، تو کیا یہ صحیح ہے  ؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ڈیجیٹل تصویر کے حوالہ سے تین قسم کی آراء ہیں جوکہ درج ذیل ہیں:

1.      ڈیجیٹل تصویر سایہ یاپانی اورشیشہ میں دکھائی دینے والے عکس کی طرح ہے،لہذاجس چیزکاعکس اورسایہ دیکھناجائزہے،اس کی ڈیجیٹل تصویر کھینچنابھی جائزہے اورجس چیزکاعکس دیکھنااوربراہ راست دیکھناناجائزہے تواس کوڈیجیٹل آلات سے دیکھنابھی ناجائزہے۔

2.        ڈیجیٹل تصویر عام پرنٹ والی تصویرکی طرح ہے اورصرف ضرورت شدیدہ کے موقع پراس کی گنجائش ہے ضرورت شدیدہ کا مطلب یہ ہے کہ جان ومال یاعزت وآبروکوکوئی خطرہ ہوتوبوقت اضطرار اس کی گنجائش ہے۔

3.      ڈیجیٹل تصویر بھی تصویرکی تعریف میں داخل ہے،البتہ اس کے تصویرہونے یانہ ہونے میں علماء کرام کی ایک سے زائدآراء موجود ہیں،اس لئے کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی ضرورت اورحاجت ومصلحت کیلئے ایسے مناظرکی تصویربنانے کی گنجائش ہےجن میں تصویرکے علاوہ حرمت کا کوئی اورپہلوموجودنہ ہو،جیسے نامحرم خواتین کی تصویر۔

 یہ تیسری رائے ہمارے دارالافتاء کی ہے۔ شادی کےموقع پر بطور  یاد گار تصویر یں بنائی جاتی ہیں جوکہ   کوئی معتبر دینی یا دنیوی ضرورت نہیں،   اس لیے شادی کےموقع پر ڈیجیٹل کیمرے یا موبائل سے فوٹو شوٹ کرنا  صحیح نہیں ہے۔

حوالہ جات

...

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

10/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب