03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ ،تین بیٹے اور تین بیٹیوں میں تقسیم میراث
83821میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ ہم آٹھ افراد کا خاندان ہیں،خاندان کے افراد کی تفصیل درج ذیل ہے:۔

1۔افتخار اللہ:  (والد)  ( تاریخ وفات:31/08/2017)

2۔اختر جہاں:  (والدہ)  (تاریخ وفات:22/04/2024)

3۔قیصر جہاں:  (بیٹی،غیر شادی شدہ) (تاریخ وفات:29/01/2024)

4۔ارشاد احمد:   (بیٹا)

5۔عرفان احمد:  ( بیٹا ،شادی شدہ ،صاحب اولاد)

6۔کامران احمد:  (بیٹا غیر شادی شدہ)   (تاریخ وفات: 30/01/2023)

7۔صائمہ عثمان:  (بیٹی)

8۔شازیہ عثمانی:  (بیٹی)

والد،بیٹا،بیٹی اور والدہ کی میراث کی تقسیم کے حوالے سے آپ کی رائے درکار ہے ،براہ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم (افتخاراللہ)نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعا نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ بیوی  کا حصہ: 12.5 فیصد۔

2۔ ہربیٹے کا حصہ :19.4444 فیصدہے۔تینوں بھائیوں کا مجموعی حصہ58.3332فیصد ہوگا۔

3۔ہر بیٹی کا حصہ:9.7222فیصد ہے ۔تینوں بیٹیوں کا مجموعی حصہ29.1666فیصد ہوگا۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

10/ذوالقعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب