| 83823 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بیٹی قیصر جہاں کے ورثہ میں ماں ،دوبھائی اور دوبہنیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ (قیصر جہاں)نے فوت ہوتے وقت ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات (اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعا نہ کیے ہوں تو )نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:
1۔ماں کا حصہ: 16.666 فیصد۔
2۔ہر بھائی کو27.778 فیصد حصہ ملے گا۔دو بھائیوں کا مجموعی حصہ55.556فیصد ہوگا۔
3۔ ہر بہن کو13.889فیصد حصہ ملے گا۔ دو بہنوں کا مجموعی حصہ27.778فیصد ہوگا۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
10/ذوالقعدہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


