03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور کی ران کی ہڈی پر جادو ہونے اور اس کو توڑنے کی شرعی حیثیت
83838ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

حلال جانوروں کی ران یعنی سرین کی جانب ایک تختہ نما ہڈی ہوتی ہے، جس کے اوپر گوشت ہوتا ہے، اسے آخر میں توڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل کیسا ہے؟ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس پر جادو ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دار الافتاء سے صرف شرعی مسائل کے جوابات دئیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ سرین کی اس ہڈی پر جادو ہونے اور اس کو توڑ دینے سے جادو نہ ہوسکنے کا خیال شرعاً درست ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جادو فی نفسہ ایک حقیقت ہے، جو مختلف اشیاء پر ہوسکتا ہے، اس لیے اگر اس علم کے ماہر دین دار لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہوں تو دیگر اسباب کی طرح اس کو بھی ایک سبب کے درجے میں ماننا خلافِ شرع نہیں، لیکن سبب سے آگے بڑھ کر اس کو بذاتِ خود مؤثر سمجھنا یا کوئی اور غلط خیال اور عقیدہ رکھنا درست نہیں، سخت ناجائز اور حرام ہے۔

لیکن اگر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ جانور کی ران کی ہڈی پر جادو ہوتا ہے یا نہیں؟ اور اس کو توڑ دینے سے اس پر جادو ہونے سے حفاظت ہوتی ہے یا نہیں؟ تو یہ شرعی مسئلہ نہیں اور ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        11/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب