| 83838 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
حلال جانوروں کی ران یعنی سرین کی جانب ایک تختہ نما ہڈی ہوتی ہے، جس کے اوپر گوشت ہوتا ہے، اسے آخر میں توڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ یہ عمل کیسا ہے؟ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس پر جادو ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ دار الافتاء سے صرف شرعی مسائل کے جوابات دئیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ سرین کی اس ہڈی پر جادو ہونے اور اس کو توڑ دینے سے جادو نہ ہوسکنے کا خیال شرعاً درست ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جادو فی نفسہ ایک حقیقت ہے، جو مختلف اشیاء پر ہوسکتا ہے، اس لیے اگر اس علم کے ماہر دین دار لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہوں تو دیگر اسباب کی طرح اس کو بھی ایک سبب کے درجے میں ماننا خلافِ شرع نہیں، لیکن سبب سے آگے بڑھ کر اس کو بذاتِ خود مؤثر سمجھنا یا کوئی اور غلط خیال اور عقیدہ رکھنا درست نہیں، سخت ناجائز اور حرام ہے۔
لیکن اگر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ جانور کی ران کی ہڈی پر جادو ہوتا ہے یا نہیں؟ اور اس کو توڑ دینے سے اس پر جادو ہونے سے حفاظت ہوتی ہے یا نہیں؟ تو یہ شرعی مسئلہ نہیں اور ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


