| 83825 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام ذیشان ہے ۔ میر ی والدہ کے دوسرے شوہر سے جب شادی ہوئی تو اس کی پہلے سے ایک بیوی تھی۔ایک دن غصہ میں انہوں نے بولا کہ" میری طرف سے تم دونوں کو طلاق ہے"۔ یہ الفاظ انہوں نے تین دفعہ ادا کیے۔ آپ سے اس مسئلے کے حوالہ سے فتوی اور رہنمائی مقصود ہے؟
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ نارمل غصہ میں یہ الفاظ ادا کیے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ شخص کی دونوں بیویوں کو تین تین طلاقیں ہو گئی ہیں، لہذا اب وہ اس کےلیےحلال نہیں۔ تاہم اگر طلاق کی عدت گزارنے کےبعد وہ کسی دوسری جگہ شادی کریں اور حق زوجیت کی ادائیگی کے بعد ان کو وہاں سے طلاق ہوجائے یا نیا شوہر فوت ہوجائے تو طلاق یا وفا ت کی عد ت گزارنے کے بعد باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کےساتھ تجدید نکاح کرکے اس سابقہ شوہر سے نکا ح ہوسکتا ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم ( البقرۃ : 230 )
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 247)
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 286)
(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
11/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


