| 83839 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
بارہ سال پہلے میرے والدین نے میری شادی کم سنی میں ہی ایک ایسے شخص سے کردی تھی جس کے بارے میں بعد میں علم ہوا کہ وہ بے تحاشہ منشیات اورنشہ آور چیزیں استعمال کرتا ہے، نشہ کرکے گھر آنا اور بات بات میں مجھے جانوروں کی طرح مارنا اس کا مشغلہ ہے، مارتے ہوئے کمرہ کے دروازے کھڑکی سب اندر سے بند کر لیتا ہے تاکہ کوئی بچانے بھی نہ آئے، میرے جسم اور چہرےپر جگہ جگہ چوٹوں کے پختہ نشان پڑ گئے ہیں، میں نے کئی بار خود کشی کی کوشش کی، لیکن نا کام رہی،طلاق لینے کی کوشش کی لیکن وہ کسی صورت طلاق دینے پر تیار نہیں ہے،میری اور بچوں کی بنیادی کھانے پینے تک کی ضرورتیں پوری نہیں ہو پاتیں، میں نے گھروں میں صفائی اورسلائی کر کے گزارہ کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنی جھوٹی انا کی خاطر ایسا بھی نہیں کرنے دیتا،کئی کئی وقت تک مجھے اور بچوں کو بھوکا رہنا پڑتا ہے، میرا یہ شوہر کبھی کبھی بیڈ شیٹ بیچنے پھیری پر جاتا ہے، ہندؤں کے علاقہ میں ہندو بن کر رہتا ہے اور مسلم علاقہ میں مسلمان شناخت کے ساتھ رہتا ہے، عیدین کے علاوہ شاذ و نادر ہی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتا ہے،مہینوں مسجد کا رخ نہیں کرتا، نماز میں پڑھنے کے لئے قران کی کوئی سورت اور آیت اسے یاد نہیں،میں جوان ہوں اور میری پریشانی دیکھ کر اڑوس پڑوس کے غیر مسلم اور مسلمان مرد جو میرے شوہر کے ساتھ نشہ کرتے ہیں مجھ پر بری نگاہ ڈالتے رہتے ہیں اور مجھے پیسوں کے عوض بد کاری کی دعوت دیتے ہیں، میں کب تک اپنی حفاظت کروں؟ اب میری والدہ نے مجبور ہوکر مجھ سے کہا ہے کہ میں واپس ماں کے پاس آ جاؤں، یہ شادی میرے والدین نے کی تھی،اب ان کو پچھتاوا ہو رہا ہے، اب میری والدہ کہتی ہیں کہ انھوں نے کوئی نیک پابند صوم و صلوٰۃ اور بہتر انسان دیکھا ہے وہ اس سے میرا نکاح کرا دیں گی، میں بھی یہاں رہنا نہیں چاہتی، میں کسی ایسے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہوں کہ جو میرے بچوں کی روز مرہ کی اور تعلیمی ضروریات بھی پوری کر سکے۔ ان حالات میں جبکہ یہ شخص مجھے طلاق بھی نہیں دیتا،میرے اوپر ہر ظلم بھی روا رکھتا ہے، میرے بنیادی حقوق بھی ادا نہیں کرتا ،کیا بنا طلاق لئے میں اپنی والدہ کے گھر جا سکتی ہوں؟ کیا اس سے دور جاکر میں اسے طلاق دینے کے لئے مجبور کروں اور بات چیت کرکے کسی طرح اس سے طلاق لے لوں تو کیا یہ میرے لئے جائز ہے؟ کیونکہ اس کے گھر میں رہتے ہوئے میں طلاق کا لفظ بھی ادا کروں گی تو یہ میری ہڈیاں توڑ دے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرواقعی شوہرنان ونفقہ کاانتظام نہیں کرتا،تشدداورمارپیٹ کرتاہے توپہلی صورت تویہ ہےکہ طلاق یاخلع لینے کی کوشش کریں،اگرشوہرطلاق یاخلع پرآمادہ نہ ہوتوپھرآپ مجازعدالت میں شرعی گواہوں( دودیانت دارمردیا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں)سے ثابت کریں،اگرآپ اپنے دعوی کوگواہان کے ذریعہ ثابت کردیں اورعدالت اس دعوی اورگواہان کی بنیاد پرفسخ نکاح کافیصلہ کردے تو یہ فیصلہ شرعی طورپرمعتبرہوگااورعدالتی فیصلہ کےبعد آپ کااس مرد سے نکاح ختم ہوجائےگا،عدت گزارنے کے بعد آپ کسی اورمردسے نکاح کرسکتی ہیں،اوراگرعدالت سےرجوع مشکل ہوتو پھراس کا حل یہ ہے کہ اپنےعلاقے کے چار پانچ نیک اور صالح آدمیوں کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، آپ ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کریں اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کردیں کہ یہ شوہر نان ونفقہ نہیں دیتااورمارپیٹ کرتاہے، يہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کانوٹس بھیجیں، اگر وہ حاضر نہ ہوسكے تو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت اس گواہی کی بنیاد پر اتفاقِ رائے سے عورت پرطلاق واقع کردے ، لیکن اس فیصلہ کے لیے جماعت کے تمام اراکین کا اتفاق ضروری ہے، کثرتِ رائے سے کیا گیا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا ،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے آپ کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت مکمل ہونے پر آپ شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔
حوالہ جات
وفی حاشية الدسوقي على الشرح الكبير(ج 8 / ص 460):
"( ولها ) أي للزوجة ( التطليق ) على الزوج ( بالضرر ) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها ، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها لا بمنعها من حمام وفرجة وتأديبها على ترك صلاة أو تسر أو تزوج عليها ومتى شهدت بينة بأصل الضرر فلها اختيار الفراق ( ولو لم تشهد البينة بتكرره ) أي الضرر أي ولها اختيار البقاء معه ويزجره الحاكم ولو سفيهة أو صغيرة ولا كلام لوليها في ذلك فقوله آنفا وبتعديه زجره الحاكم فيما إذا اختارت البقاء معه ويجري هنا هل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم قولان ( وعليهما ) أي الحكمين وجوبا ( الإصلاح ) بين الزوجين بكل وجه أمكن ."
"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:
"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".
وفی الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:190):
أن المتعنّت إذا رجع يحتمل إلحاقه بالمعسر وهو الأقرب فله إجزاء فی العدة، لا بعدها ويحتمل أن الطلاق عليه بائن وعليه فلا رجعة له حيث لا نص صريح فی المسئلة كما تقدم والله سبحانه وتعالى أعلم وفی الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 254) :
وإذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة على التفصيل السابق ، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها بسبب ذلك ، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما. وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك ، بل تستدين عليه ، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۱/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


