03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسرانکاح نہ کرنے کی شرط لگانے کاحکم
83830نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 ایک دوست  نے مسئلہ پوچھا ہے کہ اس کے گھر اس کے لیے ایک عالمہ کا رشتہ آیا ہے ، لیکن اس عالمہ کی یہ ڈیمانڈ ہے کہ میرا دوست اس عالمہ سے اگر شادی کرے گا تو وہ دوسری شادی نہیں کرے گا ۔

معلوم یہ کرناہےکہ اس رشتے کو قبول کرنا چاہیے یا نہیں ؟لڑکی کی یہ ڈیمانڈ جائز ہے یا ناجائز ؟کیا دوسرا نکاح پہلی بیوی پر ظلم اور بے وفائی کہلائے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں رشتہ نکاح  مردوعورت کے مابین انجام پانے والاقابل احترام معاہدہ ہے ،جس میں دو اجنبی مرد اورعورت ایک ساتھ محبت ،الفت کے رشتے سے منسلک ہونے کامعاہدہ کرتے ہیں ،اللہ تعالی نے عقد نکاح کے ذریعہ دواجنبی مرد وعورت کے باہمی تعلق اورملاپ کواپنی  رحمت وقدرت کی نشانیوں میں شمارکیاہے ،اسی سے عائلی زندگی کاآغازہوتاہے ۔

مقصداس تمہید کایہ ہے کہ یہ ایک قابل احترام اورمقدس رشتہ ہے ،لہذافریقین اس مقد س رشتہ کے بندھن میں جڑتے وقت اگرکوئی ایسی شرط لگائیں جس سے یہ رشتہ اور مضبوط ہو درست اورعین نکاح کے مطابق ہے اورایسی شرطوں کی تکمیل کاحکم خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ،بخاری شریف کی رو ایت ہے :تمہارے لئے ان شرائط کی تکمیل زیادہ ضروری ہے جن کے ذریعہ تم عورتوں کواپنے لئے حلال کرتے ہو۔

البتہ ان شرائط کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ یہ شرائط شریعت اسلامی کی روسے صحیح اوردرست ہوں اورمقتضائے عقد کےمناسب وموافق بھی ہوں ،ایسی شرائط مقررکرنے کی صورت میں ان کی پاسداری اوران کاپوراکرناضروری ہوگاجیسے عقد نکاح کے وقت شوہر سے علیحدہ گھرفراہم کرنے کی  شرط لگاناجس میں وہ اپنے سامان کومحفوظ رکھ سکے اورخودرہ سکے یامہر وغیرہ کی ادائیگی کی شرط لگاناوغیرہ وغیرہ یاایسی شرائط لگاناجن کے ذریعہ کسی فریق پر نئی ذمہ داری نہیں آتی ،بلکہ عقد نکاح کے ضمن میں وہ  پہلے سے شامل ہوتی ہیں،لیکن مزید اہتمام کے لئے  ان کاصراحت کے ساتھ ذکر کردیاجائےجیسے عقد نکاح کے وقت یہ شرط لگاناکہ شوہر اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے گا اور اس کانان ونفقہ کی فراہمی میں شوہر کوتاہی نہیں کرے گا۔

اگرشرائط ایسی  ہوں جوشریعت اسلامی کی روسے عقد نکاح سے میل نہ کھاتی ہوں یاشریعت اسلامی ان کی اجازت نہ دیتی ہوجیسے عقد نکاح کے وقت یہ شرط لگاناکہ شوہر دوسری شادی نہیں کرے گایاعورت کا بننے والی سوکن کی طلاق کی شرط لگاناوغیرہ تو اس کاحکم یہ ہے کہ ایسی شرائط لگانادرست نہیں اور اس طرح کی شرائط بذات خود کالعدم ہوجاتی ہیں،صورت مسؤلہ کاجواب یہ ہےکہ اس طرح کی شرط لگانادرست نہیں،نکاح کے بعداگرلڑکادوسرانکاح کرناچاہے توکرسکتاہے ،شرط یہ ہے کہ دونوں کے درمیان عدل اورانصاف کے تقاضوں کوپوراکرسکتاہوں،بصورت دیگرجائزنہیں۔

حوالہ جات

فی صحيح البخاري  (ج 2 / ص 970):

 حدثنا عبد الله بن يوسف حدثنا الليث قال حدثني يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال  : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج )

وفی صحيح مسلم (ج 2 / ص 1035):

”عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :﴿ إن أحق الشرط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج ﴾

 هذا لفظ حديث أبي بكر وابن المثنى غير أن ابن المثنى قال الشروط

 [  ( إن أحق الشرط أن يوفى به ) قال الشافعي وأكثر العلماء رضي الله عنهم إن هذا محمول على شروط لا تنافي مقتضى النكاح بل تكون من مقتضياته ومقاصده كاشتراط العشرة بالمعروف والإنفاق عليها وكسوتها وسكناها بالمعروف وأنه لا يقصر في شيء من حقوقها ويقسم لها كغيرها وأنها لا تخرج من بيته إلا بإذنه ولا تنشز عليه ولا تصوم تطوعا بغير إذنه ولا تأذن في بيته إلا بإذنه ولا تتصرف في متاعه إلا برضاه ونحو ذلك ]"

وفی الدر المختار للحصفكي  (ج 3 / ص 58):

"(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح."

وفی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 5 / ص 468):

"إذا تزوجها على خمر أو خنزير فإن المسمى ليس بمال متقوم في حق المسلم فكان شرط قبوله شرطا فاسدا غير أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فيصح النكاح ويلغو الشرط ويجب مهر المثل

وفی العناية شرح الهداية (ج 5 / ص 11):

( وإذا تزوجها على ألف على أن لا يخرجها من البلدة ) قد تقدم أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة ،فإذا تزوج امرأة على ألف على أن لا يخرجها من البلدة ( أو على أن لا يتزوج عليها ) أو على أن يطلق فلانة فالنكاح صحيح وإن كان شرط عدم التزوج وعدم المسافرة وطلاق الضرة فاسد، لأن فيه المنع عن الأمر المشروع۔

محمد اویس

 دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۱۱/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب