03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاقِ معلق کاحکم
83814طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ضیا  ءالحق......ہوں............. میں فیملی کے ساتھ رہائش پزیر تھا، آج سے چھ ماہ قبل میرے بڑے بھائی سے میر ی کاروباری معاملات میں لڑائی ہو گئی ،اس لڑائی کے دوران چھوٹے بھائی نے مجھے گالیاں دی اور برا بھلا کہا، اس کے بعد میں اپنے پڑوسی کے پاس بیٹھا تھا کہ میرابیٹا آیا اور اس نے بتایا کہ چاچو دو مرتبہ گھر آکر امی کو گھر سے سامان کے ساتھ جانے کو کہہ رہے ہیں،میں گھر گیا اپنی بھابھی سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے، انہوں نے بتایا کہ بلکل آپ کے بڑے بھائی نے دو مرتبہ آکر گھر سے جانے کا کہاہے، پھر میں نے اپنی گھر والی سے سامان سمیٹنے کاکہا اور میں نیچے آیا اور اپنے پڑوسی سے گاڑی لی اورچاچا کے بیٹے کو فون کیا اور اس سے کہا  کہ آپ آجاؤ،  جب وہ  آیا  تو ہم سامان گاڑی میں رکھ رہے تھے تو چاچا کے بیٹے نے کہا کے ابھی آپ رک جائیں، پہلے بات کرتے ہیں۔میں غصے میں تھا میں نے کہا کہ اب میں اس گھر میں یا اس کاروبا میں اگر واپس آیا ،یا یہاں اور رکا،یا میرے بیوی بچے واپس آئیں یا  رکیں تو میری بیوی کو سراسر طلاق ہے  ۔اس کے بعد ہم کہیں اور شفٹ ہوگئے، اس چھ ماہ میں ایک دفعہ میرا بیٹا جس کی عمر تقریباً 13 سال ہے وہ مجھے بنا بتائے کسی کے ساتھ اپنے چاچو لوگوں سے ملنے ہوٹل پر گیا تھا،اب میرے بیوی بچے ہمارے گاؤں میں موجود ہیں ، میرے چھوٹے بھائی جسکی وجہ سے لڑائی ہوئی تھی،اس کی عید کے بعد شادی ہے  میں نے اپنے امی ابو کو فون کیا کہ میری بیوی بچے شادی میں نہیں رہیں گے تو ابو نےغصہ ہوکر مجھے ایسے الفاظ کہے کہ جس کے جواب میں مجھے یہ کہنا پڑا کہ اگر میرے بیوی بچو ں نے  وہاں شادی گزاری تو مجھ پر میری بیوی سراسر طلاق ہے چاہے آپ اس کے بعد اسکو گھر بھیجو یا اپنے پاس نوکرانی بناکر رکھو ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں دوشرطیں ہیں اوران میں ہرایک کے ساتھ الگ الگ طلاق معلق ہے،لہذا پہلی شرط کی رو سے اگر سائل اس گھر میں یا اس کاروبا میں  واپس آیا یا اس کی بیوی بچے واپس آئیں یا رکیں تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی،اس لیے کہ ضیاء الحق نے طلاق کے صریح لفظ کے ساتھ"سراسر" کا وصف ذکر کیا ہےجوکہ شدت پر دلالت کرتاہے،جس کی وجہ سے صریح لفظ سے بھی بائن طلاق واقع ہوجاتی ہے،سائل نے جو واقعہ لکھا ہے اس میں اس کا بیٹا صرف چچاکے ہوٹل پر گیا،اس کےگھر نہیں گیا اورنہ کاروباری میں شریک ہواہے،لہذا اس سے طلاق نہیں ہوئی ،آئندہ اس گھرمیں جانے اورکاروبارمیں شرکت سے احتراز کرے ورنہ شرط کے مطابق طلاق واقع ہوگی ۔

دوسری شرط کی روسے اگرسائل کی بیوی بچو ں نے  وہاں متعلق بھائی کی شادی  میں شرکت کی تو سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔اس لیے کہ یہاں بھی ضیاء الحق نے طلاق کے صریح  لفظ کے ساتھ"سراسر" کا وصف ذکر کیا ہےجوکہ شدت پر دلالت کرتاہے،جس کی وجہ سے صریح لفظ سے بھی بائن طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا  اس گھر میں چھوٹےبھائی کی ہونےوالی شادی میں شرکت سے سائل کی بیوی اوربچے گریز کریں ورنہ شرط کے مطابق طلاق واقع ہوجائے گی۔

ان شرطوں میں جو بھی پہلے پائی جائے گی اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی اورپھر دوسری شرط اگرعدت کے اندرپانی جائےگی اس سے دوسری طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی(لان الصریح البائن یلحق بالصریح البائن)اورکل دوہوجائیں گی اوراگرشرط عدت کے بعد پائی جائے تو پھر دوسری شرط کے وقوع سے کوئی اورطلاق واقع نہ ہوگی۔(لأنھااجنبیة آنذاک)

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي - (1 / 244):

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا .

الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 204):

  يتكرر الجزاء بتكرر الشرط : كلما دخلت فكذا كلما قعدت عندك فكذ فقعد ساعة طلقت ثلاثا كلما ضربتك فضربها بيديه طلقت ثنتين وإن بكف واحدة فواحدة كلما طلقتك فطلقها وقع ثنتان كلما وقع عليك طلاقي فطلقها طلقت ثلاثا.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 9 / ص 384):

في البدائع. وأفاد أنه لابد من نقل جميع الاهل والمتاع وهو في الاصل بالاجماع. والمراد  بالاهل زوجته وأولاده الذين معه وكل من كان يأويه لخدمته والقيام بأمره كما في البدائع.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 276):

(و) يقع (ب) قوله (أنت طالق بائن أو ألبتة) وقال الشافعي: يقع رجعيا لو موطوءة (أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة، أو أشر الطلاق،أو كالجبل أو كألف، أو ملء البيت، أو تطليقة شديدة، أو طويلة، أو عريضة أو أسوه، أو أشده، أو أخبثه) أو أخشنه (أو أكبره أو أعرضه أو أطوله، أو أغلظه أو أعظمه واحدة بائنة)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 306):

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح،۔۔۔ (لا) يلحق البائن (البائن)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 306)

(قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 307)

 أنت طالق بائن أو ألبتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو طلقة طويلة أو عريضة إلخ فهذا كله صريح لا يتوقف على النية، ويقع به البائن ويلحق الصريح والبائن. قال في الخلاصة: والصريح يلحق البائن وإن لم يكن رجعيا.هذا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۸/١١/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب