| 83819 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میری شادی 2021 میں ہوئی ، ہم عمان میں رہ رہے تھے۔ میں نے اپنی اہلیہ کو 4 تولے کا حق مہر ادا کیا، 2023 میں ہم نے یورپ جانے کا فیصلہ کیا ،بیوی نے سونا فروخت کرنے کا مشورہ دیا تاکہ اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ اس وقت اس کے پاس کچھ سونا تھا جو اسے اس کی ماں اور خالہ نے بھی دیا تھا۔ اپنی ماں کی ہدایت کے مطابق اس نے اپنی ماں کو سونا واپس دے دیا اور مجھے اس کی اطلاع نہیں دی۔ دوسری طرف میرے گھر والوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا سونا اپنا اثاثہ سمجھےاور فروخت نہ کرے ،لیکن اس نے اصرار کیا کہ وہ سونا نہیں پہنتی۔ فروخت سے پہلے میں نے اس سے کل سونے کے بارے میں پوچھا تاکہ میں رقم کا اندازہ لگا سکوں ۔ اس وقت اس نے بتایا کہ اپنی والدہ کا سونا اسے واپس کر دیا ہے اور وہ اپنی خالہ کا سیٹ بھی فروخت نہیں کرنا چاہتی۔ جس پر مجھے غصہ آیا کہ وہ اس وقت اپنی ماں سے ہدایات لیتی رہی اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ بہرحال اس نے آگے بڑھ کر باقی سارا سونا بیچ دیا۔ اب ہم پاکستان میں ہیں اور اس کی والدہ کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے ہمارے درمیان معاملات بہت خراب ہو گئے ہیں ، وہ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے ، اس کے علاوہ مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہی ہے۔ تاہم اس کی والدہ اس بات پر اصرار کر رہی ہیں کہ میں اس کی خالہ کی طرف سے دیے گئے سونے کی رقم واپس کر دوں۔ جبکہ میں اس بات پر اصرار کر رہا ہوں کہ یہ خلع کا مقدمہ ہے اور میں اس کے کسی بھی فیصلے کا ذمہ دار نہیں ہوں، میں صرف طلاق دوں گا اور کچھ نہیں۔ براہ کرم بتائیں کہ اس معاملے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیونکہ اس نے طلاق کی ابتدا کی اور اس کا مہر ادا کیا گیا اور اس نے اسے اپنی مرضی سے بیچا۔
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ سفر کے اخراجات کےلیے سونا بیچنےکا مشورہ عورت نےہی دیا تھا اور اس نے میرے مطالبے کےبغیر اپنی مرضی سے بیچا تھا ۔ جبکہ بیوی کےگھر والوں کا دعوی ہے کہ اس نے سائل کے مطالبہ پر بیچا ہے،اس ضمن میں سائل نے لکھا ہے کہ اگر بالفرض یہ بات صحیح بھی ہواور میرے ذمےاس کا سونا لازم ہوتو اس کے بدلے خلع کے طور پر طلاق دوں گا ، مفت میں نہیں دوں گا۔خلع کےمقدمہ کا یہ مطلب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت اور عقل و دانش کا تقاضایہ ہےکہ شدید مجبوری کے بغیر طلاق دینےسے گریز کیاجائے۔طلاق کی وجہ سے دونوں گھر تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سےدونوں خاندانوں کےدرمیان جھگڑا پیدا ہونے کا قوی خدشہ ہوتاہےجوکہ شریعت میں انتہائی مذموم ہے۔ یہی وجہ ہےکہ حضوﷺ نے حلال امور میں سے طلاق کو سب سے زیادہ مبغوض قرار دیا ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ نکاح کے رشتہ میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان میں سے اکثر مسائل کا حل بآسانی نکل سکتا ہےاور کم ہی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل نہ نکل سکے۔ایسے ہی مواقع سے متعلق حضورﷺ نے فرمایا کہ عور ت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے ،اس کو اگر مکمل سیدھا کرنے لگو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے۔
لہذا آ پ کو چاہیےکہ بیوی کو طلاق دینے سے گریز کریں اور اس کی جگہ میاں بیوی آپس میں بیٹھ کر اپنےمسائل کا حل نکالیں۔ اگرخود نہ نکال سکیں تو دونوں خاندانوں کےسمجھدار لوگ مل کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ان کی کوشش بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو اور میاں بیوی کا ان مسائل کےہوتے ہوئے ایک ساتھ چلنا بھی ممکن نہ ہو تو انتہائی مجبوری کےعالم میں طلاق دینے کی گنجائش ہے۔
جہاں تک آپ کی ساس کے بیوی کوخالہ کی طرف سے دیئے ہوئے سونے کی رقم کےمطالبہ کی بات ہے تو اگر بیوی نے آپ کےمطالبہ کےبغیراپنی رضامندی سے سونا بیچ کر اس کی رقم از خود سفرکے اخراجات کےلیے آپ کو دی تھی تو پوری رقم بیوی کی طرف سے آپ کو تحفہ اور ہبہ تھی، جس کا واپس کرنا اب آپ کےذمہ لازم نہیں،چاہےبیوی اس کا مطالبہ کرے یا اس کی والدہ اور چاہےپوری رقم کا مطالبہ کرے یا صرف خالہ کی طرف سے دیئےگئے سونےکی رقم کا مطالبہ کرے۔ لیکن اگر اس نے آپ کےمطالبہ پر سونا بیچ کر رقم دی تھی جیسا کہ اس کے گھر والوں کا دعوی ہے تو بیوی کی پوری کی پوری رقم آپ کےذمہ قرض ہے، بیوی کامطالبہ نہ کرنے کی صورت میں یہ قرض ساقط ہوجائے گا ، والدہ کو مطالبہ کا کوئی حق نہیں۔البتہ اگر بیوی مطالبہ کرے تو آپ اس قرض کے بدلے خلع کے طور پر طلاق دے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 229):
يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 687):
(وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق، ولو مكاتبا. وشرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 704):
(والخاء خروج الهبة عن ملك الموهوب له) ... (والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا) كعكسه
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
12/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


