03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاقِ بائن کی عدت گزرنے کےبعد تین طلاق دینا
83846طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو مؤرخہ 2023-01-06 کو ایک طلاقِ بائن دی ہے اور اس کے بعد تین حیض مکمل گزر گئے ہیں۔ بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نے مجھے ایک طلاق دی ہے اور یہ الفاظ کہے ہیں "تو میری طرف سے فارغ ہے"، شوہر بھی اس کا اقرار کر رہا ہے کہ میں نے ایک طلاق دی ہے۔ لیکن اس شخص نے 2024-02-07 کو یعنی عدت مکمل ہونے کے بعد کچھ لوگوں کے سامنے کہا تھا کہ اب میں تین طلاقیں دیتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ مکمل تین حیض گزرنے کے بعد اس شخص نے جو تین طلاقیں دی ہیں، یہ واقع ہوئی ہیں یا لغو ہوگئی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر اس شخص نے واقعۃً عدت گزرنے کے بعد یہ کہا ہے کہ "اب میں تین طلاقیں دیتا ہوں" تو یہ لغو ہے، اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 306):

( الصريح يلحق الصريح و ) يلحق ( البائن ) بشرط العدة……..> الخ

حاشية ابن عابدين (3/ 306):

قوله ( بشرط العدة ) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق فالأولى تأخيره عنها اه ح.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        12/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب