03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سادہ کاغذ اور موبائل پر لکھی گئی طلاق کا حکم
83859طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میرے شوہر احسان اللہ نے اپنی دوسری بیوی مونا (میمونہ)ولد اکبر کو 30 ستمبر 2020 کو طلاق دی،تمام حالات و واقعات جامعہ خیر المدارس ملتان میں دارالافتاء میں بیان کئے گئے اور مفتیان کرام نے احسان اللہ اور پہلی بیوی بشری سے فون پر بیان لئے،اس کے بعد 09/11/2020 کو خیرالمدارس سے تین طلاقوں کے وقوع کا فتوی جاری کیا گیا جو ساتھ میں لف ہے،احسان اللہ نے فتوی پر اعتراض کیا تو دارالعلوم کورنگی کراچی سے اس فتوی کی تائید کی درخواست کی گئی،جس پر وہاں سے بھی تین طلاقوں کے وقوع کے فتوی کی تصدیق میں فتوی جاری کیا گیا۔

احسان اللہ اپنے اعتراض پر قائم رہا اور اس نے اپنے لئے جامعة الرشید سے بیان بدل کر دوسرا فتوی حاصل کیا،جس میں تین طلاقوں کے عدم وقوع کا حکم مذکور تھا،احسان اللہ نے اپنے بیان میں جامعہ خیرالمدارس کے فتوی کا ذکر نہیں کیا،بیان میں اضافی اور غیر حقیقی باتیں شامل کرکے اپنے حق میں فتوی لینے کی کوشش کی اور سوال میں کاغذ پر لکھی گئی تحریری طلاق کا تذکر ہ نہیں کیا اور نہ میرا بیان شامل کیا،حالانکہ میں واحد گواہ تھی۔

میں آپ کے سامنے واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں اللہ رب العزت کو گواہ بناکر کہتی ہوں کہ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے چھوڑدو یا پھر اس کو،جس پر اس نے کہا کہ میں اسے چھوڑدوں گا،لیکن تمہیں نہیں چھوڑوں گا،چنانچہ میں نے اسے کاپی اٹھاکر دی اور اس نے واضح اور صریح الفاظ میں دوسری بیوی میمونہ ولد اکبر کو طلاق لکھ دی،میں اللہ کو گواہ بناکر کہتی ہوں کہ اس وقت میرے ہاتھ میں نہ ہی چھری تھی اور نہ ہی کوئی زہر کی بوتل،میں نے ان سے کہا کہ تین طلاقیں مکمل کرو،انہوں نے رات زیادہ ہونے کی وجہ سے اگلے دن صبح فون ملا کر اس کو طلاق دی،میرے ہاتھ میں اس وقت بھی چھری اور زہر نہیں تھا۔

میں رو رہی تھی اور اصرار کررہی تھی کہ تین دفعہ طلاق کے الفاظ زبان سے بول کر مکمل کرو،جس پر انہوں نے کہا کہ میری ہمت نہیں ہورہی،میں نے ان سے کہا کہ چلیں فون پر میسج لکھ دیں،انہوں نے فون اٹھایا اور واضح و صریح الفاظ میں دو طلاقیں لکھ دی،میں گواہ ہوں،اس تمہید کی روشنی میں میرا سوال یہ ہے کہ :

1۔آپ لوگوں نے فتوی جاری کرنے سے پہلے گواہ سے پوچھنا ضروری کیوں نہ سمجھا،حالانکہ میں اس وقت طلاق کی واحد گواہ تھی۔

2۔کیا کاغذ اور موبائل پر لکھنے میں فرق ہے،حالانکہ دونوں صورتوں میں انسان کا ہاتھ استعمال ہوتا ہے اور آج کل تو خط و کتابت کا جدید ذریعہ آلات ہی ہیں اور انہیں قانونی اہمیت بھی حاصل ہے۔

ہم لوگ دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور متفرق فتاوی آنے کی وجہ سے شدید ذہنی تناؤ اور فتنہ وفساد کا شکار ہیں،احسان اللہ سابقہ فتاوی کا ذکر نہ کرکے اختلاف امت کا باعث بنا اور اپنے بیان میں اضافی اور غیر حقیقی باتیں شامل کیں۔

نوٹ :تحریری طلاق والے کاغذ کی کاپی بھی منسلک ہے،میمونہ اکبر کو پیار سے مونا اکبر بھی کہتے ہیں۔

تنقیح: حاصل یہ کہ پہلی طلاق کاپی کے صفحے پر لکھی جس کے الفاظ تھے:"میں طلاق دیتا ہوں میمونہ ولد اکبر کو"،اس کے بعد دوسری فون پر دی یہ کہہ کر کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"،اس کے بعد میسج پر یہ جملے لکھے:"میں دو طلاق دیتا ہوں میمونہ ولد اکبر کو"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی غیب کا علم نہیں جانتا،وہ پوچھے گئے سوال کے مطابق جواب دیتا ہے،لہذا اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی نہ ہو تو مفتی کا جواب صورت مسئولہ پر منطبق نہیں ہوگا اور محض مفتی کے بتانے کی وجہ سے حرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔چونکہ مفتی کا کام پوچھی گئی صورت حال کے مطابق مسئلہ بتانا ہوتا ہے،سچ اور حقیقت بیان کرنا مستفتی کی ذمہ داری ہے،لہذا اگر سائل غلط بیانی سے کام لے گا تو اس کاوبال اسی کے سر ہوگا،اسی لئے احتیاط کے پیشِ نظر دارالافتاء جامعة الرشید کے فتوی کے لئے منتخب فارمیٹ پر یہ عبارت لکھی گئی ہے کہ :

"دارالافتاء جامعة الرشید سے جاری ہونے والا ہر فتوی درج کئے گئے سوال کے مطابق دیا جاتا ہے،اگر صورت حال پوچھے گئے سوال کے برعکس ہو تو فتوی کالعدم سمجھا جائے گا"۔

2۔ہماری رائے کے مطابق میسج پر لکھی جانے والی  مذکورہ تحریر مرسومہ تب بنتی جب اسے متعلقہ نمبر پربھیج دیا جاتا،بھیجنے سے پہلے محض  مذکورہ میسج لکھنے سے بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذا اگر میسج لکھتے وقت آپ کے شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی اور لکھنے کے بعد وہ میسج بیوی کو بھیجا بھی نہیں تو صرف مذکورہ میسج لکھنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

علاوہ ازیں کاپی کے صفحے پر لکھی گئی طلاق بھی کتابتِ غیر مرسومہ کے تحت داخل ہے،کیونکہ وہ تحریر مصدر اور معنون(وہ تحریر جو بیوی کو مخاطب کرکے،مثلا فلانہ!تجھے طلاق یا اس کے نام لکھی جائے،مثلا فلاں کی طرف سے فلانة  کی طرف،یا میری بیوی فلانہ کے نام وغیرہ) نہیں ہے اور کتابتِ غیر مرسومہ کے ذریعے وقوعِ طلاق کا مدار نیت پر ہوتا ہے،لہذا اگر کاپی کے صفحے پر لکھتے وقت شوہر کی دوسری بیوی کو طلاق دینے کی نیت نہیں تھی تو یہ طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔

لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر شوہر نے آپ کے اصرار پر مذکورہ جملے چاہے کاپی کے صفحے پر ہو یا میسج پر دوسری بیوی کو طلاق دینے کے ارادے سے لکھے تھے تو پھر ان کے ذریعے طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

نیز فون پر دی گئی زبانی ایک طلاق بہرحال واقع ہوگئی ہے،کیونکہ صریح الفاظ میں زبانی دی گئی طلاق واقع ہونے کا مدار نیت پر نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (3/ 109):

"وأما النوع الثاني فهو أن يكتب على قرطاس أو لوح أو أرض أو حائط كتابة مستبينة لكن لا على وجه المخاطبة امرأته طالق فيسأل عن نيته؛ فإن قال: نويت به الطلاق وقع، وإن قال: لم أنو به الطلاق صدق في القضاء؛ لأن الكتابة على هذا الوجه بمنزلة الكتابة لأن الإنسان قد يكتب على هذا الوجه ويريد به الطلاق وقد يكتب لتجويد الخط فلا يحمل على الطلاق إلا بالنية وإن كتبت كتابة غير مستبينة بأن كتب على الماء أو على الهواء فذلك ليس بشيء حتى لا يقع به الطلاق وإن نوى؛ لأن ما لا تستبين به الحروف لا يسمى كتابة فكان ملحقا بالعدم، وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد: يا فلانة! فأنت طالق ،أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق، يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق إلا أن يقول: نويت طلاقا من وثاق فيصدق فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب".

"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي" (9/ 6902):

"أما الكتابة المستبينة فهي نوعان: كتابة مرسومة: وهي التي تكتب مصدَّرة ومعنونة باسم الزوجة وتوجه إليها كالرسائل المعهودة، كأن يكتب الرجل إلى زوجته قائلاً: إلى زوجتي فلانة، أما بعد فأنت طالق، وحكمها: حكم الصريح إذا كان اللفظ صريحاً، فيقع الطلاق ولو من غير نية.

وأما الكتابة غير المرسومة: فهي التي لا تكتب إلى عنوان الزوجة أو باسمها ولا توجه إليها كالرسائل المعروفة، كأن يكتب الرجل في ورقة: «زوجتي فلانة طالق». وحكمها حكم الكناية ولو كان اللفظ صريحاً، لا يقع بها الطلاق إلا بالنية".

"الدر المختار " (3/ 246):

"كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ: "(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ذی قعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب