03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ،سات بھائی،تین بہنوں میں تقسیم میراث
83896میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے ایک دوست دوران ملازمت بقضائے الہی انتقال کر گئے ہیں،اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے ،مرحوم  ایک بیوہ،سات بھائی اور تین بہنیں بطورورثہ چھوڑ چکے ہیں،جبکہ مرحوم کے ترکہ میں ایک عدد گاڑی   ہے،اور مختلف مد میں ملنے والے رقوم شامل ہیں،(جن کی تفصیل آگے آرہی ہے)

1۔ کار:                                    مبلغ/1000000

 درج بالا ترکہ کس ترتیب سے تقسیم کیاجائے گا اور ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ کار کی قیمت میراث کی تقسیم میں شامل ہوگی۔

2۔میراث کی تقسیم کاطریقہ:

مرحوم نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات (اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعا نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔بیوی کا حصہ: 25 فیصد ہے۔

2۔ہر بھائی کو8.8228 فیصد حصہ ملے گا۔سات بھائیوں کا مجموعی حصہ61.76فیصد ہوگا۔

3۔  ہر بہن کو4.4133فیصد حصہ ملے گا۔ تین بہنوں کا مجموعی حصہ13.24فیصد ہوگا۔

حوالہ جات

....

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

13/ذیقعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب