| 83844 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے شوہر نے مجھے مورخہ 27 اپریل 2024 کو غصے میں بلا ارادہ بعد نمازِ فجر طلاق دی ہے، وہ اس وقت شدید غصہ کی حالت میں تھے کہ ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کر رہے ہیں۔مفتی صاحب!شادی کے بعد سے ہمارے گھر میں کالے علم کی درج ذیل علامات پائی گئی ہیں:
1۔ شادی کی رات بستر سے ایک لال نگ والی انگوٹھی برآمد ہوئی جو کہ وہاں آئے مہمانوں میں سے کسی کی بھی نہیں تھی۔
2۔ اس گھر میں موٹے شیشے کے دروازے کا ایک تختہ سالوں سے رکھا ہوا تھا، شادی کے 1 سے 2 ماہ بعد وہ ایسے گرا کہ چکنا چور ہو گیا حالانکہ نہ تو تیز ہوا چل رہی تھی نہ ہی موسم خراب تھا اور نہ ہی کوئی اس کمرے میں گیا تھا اس وقت۔
3۔ میرے شوہر کے جسم میں اکثر درد رہنے لگا تھا اور درد سے گھٹلیاں بن جاتی تھی خصوصاََ اس دن ہی میں نے پیر کی ایک ایسی گھٹلی کی مالش کی تھی ۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا۔
4۔ 1سے 2 دن میں مکڑیوں کے جالے بن جاتے تھے جگہ جگہ بالخصوص کچن کے اندر جہاں آٹا چاول رکھا تھا حالانک وہ جگہ تقریباً روز استعمال ہوتی ہیں۔
5۔ میرے کپڑے دو بار رکھے رکھے پھٹ گئے حالانکہ نئے کپڑے مشین پر دوسرے کپڑوں کے بیچ ہی رکھے تھے، دوسرے کسی کپڑے میں کوئی چھوٹا سا سوراخ بھی نہیں ہوا مگر میرا ایک دوپٹہ اور اسی سوٹ کا قمیض اور دوسری بار ایک قمیض اس بری طرح پھٹے کی کڑھائی کے دھاگے اپنی جگہ تھے اور پیچھے سے کپڑا غائب۔
میرے کانوں میں یہ الفاظ دو بار آئے جبکہ ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا نہ عزم، تیسری بار" میں تمہیں" کہہ کر وہ کمرے سے چلے گئے ۔اب سوال یہ ہے کہ رجوع کی گنجائش ہے کہ نہیں؟
سائلہ نے فون پروضاحت کی کہ طلاق کے الفاظ دو مرتبہ شوہرنے کہے تھے اورالفاظ یہ تھے، "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" اوراس کے بعد تیسری مرتبہ صرف یہ کہا تھا "میں تمہیں"اورطلاق کا لفظ نہیں بولاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے الفاظ ارادہ کے بغیر اورٕغصہ کی حالت میں کہنےسےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا مسئولہ صورت میں اگرعورت کا بیان درست ہے تو اس پر دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اورتیسرےلفظ "میں تمہیں"کہنے سے کوئی طلاق نہیں ہوئی،لہذا اگرابھی عدت یعنی تین حیض نہ گزرے ہوں تو میاں بیوی میں رجوع ہوسکتاہے اوراگرعدت گزرچکی ہو تو پھر باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیانکاح ہوسکتاہے اورہردوصورتوں میں آئندہ شوہر کوصرف ایک طلاق کا اختیارباقی رہے گا۔
توہمات سے بچنے کی کوشش کریں اورنفسیاتی مسائل کے لیے ڈاکٹرسے رابطہ کریں اورمزید اطمینان کے لئے"منزل" پڑھاکریں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالیٰ:
{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]
فی الھدایة:
واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا.(ج:2، ص:394، کتاب الطلاق)
فی البدائع الصنائع:
فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وھذا عندنا.
وفی بدائع الصنائع:
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد".(كتاب الطلاق، فصل:وأما حكم الطلاق البائن3/ 187، ط:سعید)
وفی اعلاء السنن :
فنقول: إن المراد من الإغلاق هو إغلاق الفم حیث لایقدر علی التکلم، ولایمکن له أن یتلفظ بلفظ الطلاق مفسرًا، وإن تلفظ بشيءٍ یسیرٍ مبهمًا لایحصل المقصود به، فمثل هذا الطلاق لایقع؛ لانه لایقال له عرفًا: إنه طلق إذا لم یفهم لفظ الطلاق من کلامه ولم یصدر منه التلفظ به حیث یدل علی المقصود. (11/180، بیان من یصح منہ الطلاق ومن لا یصح منہ، ط: ادارۃ القرآن)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


