| 83913 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال ایک چائنہ کی آن لائن شاپنگ ایپ سے متعلق ہے ، اس پر ایپ کی طرف سے یہ آفر ہے کہ جو بهی شخص اس پر نیا اکاؤنٹ بنا کر پہلی مرتبہ کوئی کچھ مخصوص چیزیں جن پر ایپ والوں کی طرف سے ڈسکاؤنٹ مقرر ہے ،اس میں سے کوئی ایک چیز آرڈر کر سکتا ہے مطلب پاکستان میں جس چیز کی قیمت دو ہزار روپے ہے وہ صرف تین سو روپے کی مل جاتی ہے ہوتا یہ ہے کہ ایپ والے اپنی پروموشن کے لئے یہ کرتے ہیں اور ان کا ان خاص سٹورز سے ڈیل ہوئی ہوتی ہے یا شاید وہ بقیہ پیسے سٹور والوں کو خود ادا کرتے ہیں واللہ اعلم کچھ کنفرم نہیں اور نہ ہی ایپ کی طرف سے کچھ بتایا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہی شخص بار بار مختلف اکاؤنٹ بنا کر یہ چیزیں بار بار خریدتا ہے، تو کیا یہ عمل فراڈ اور چوری کے زمرے میں آئےگا ؟ اور اس طرح کرنے سے گناہ ہوگا؟ مزید یہ کہ اگر کچھ چیزیں ایسے منگوالی ہو ں، تو اس کا کیا کریں؟ براہ مہربانی رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر ڈسکاؤنٹ کی آفر دینے والے ایپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ ایک ہی شخص ایک سے زائد اکاؤنٹ بناکر ایپ پرموجود چیزوں کی خریداری کرے اور اس سے آفر دینے والا کا مقصد بھی پورا ہوتا ہو اوروہ اس پر راضی بھی ہو، تو پھر ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ایسی چیزوں کی خریداری شرعا جائز ہے، البتہ اگر وہ اس پر راضی نہ ہو، صراحۃ یا دلالۃ ، تو پھر اس خریداری کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں، ایسی صورت میں جو چیزیں منگوالی ہیں، تو شرعا وہ خیانت کا مرتکب ہوگیاہے ۔ اب اگروہ چیزیں اس کے پاس موجود ہوں اور ان کی واپسی ممکن ہو ، تو وہ واپس کرکے اپنی ادا کردہ رقم ایپ سے وصول کرلے، بصورت دیگر ان کی جو بھی بازاری قیمت بنتی ہو اور اس سے کم قیمت میں اس شخص کو جتنے کی پڑی ہوں، دونوں قیمتوں کا باہمی فرق معلوم کرکےاتنی رقم صدقہ کردے اور ان چیزوں کو استعمال کرے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (1/ 99):
(102) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي».
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 2):
قال - رحمه الله - (هو مبادلة المال بالمال بالتراضي) وهذا في الشرع، وفي اللغة هو مطلق المبادلة من غير تقييد بالتراضي، وكونه مقيدا به ثبت شرعا لقوله تعالى {إلا أن تكون تجارة عن تراض} [النساء: 29].
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 99):
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
13/ذی قعدہ /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


