| 83853 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ کےبارےمیں :
مسمی محمدجان کا انتقال ہوااورا س کےدرج ذیل پسماندگان رہ گئے:ایک بیوہ(تاج بی بی)۔ایک باپ شریک بہن (آمنہ)۔ایک ماں شریک بھائی (حضوربخش)اورایک حقیقی بھائی (محمدعثمان )کابیٹا۔
درج بالا ورثہ میں مرحوم محمدجان کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ اداکیاجائے(اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائے،تیسرے نمبر پر اگرمرحوم نے کسی کے لئے اپنے مال میں سے تہائی حصہ تک وصیت کی ہے تو اسے اداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائےتواس کودرج ذیل طریقےسےتقسیم کیاجائےگا۔
مرحوم محمدجان کی تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیداد کےکل 12حصےکیےجائیں،4حصے (ربع)بیوی کوملیں گے،6حصے(نصف)باپ شریک بہن کوملیں گے،2حصے(سدس)ماں شریک بھائی کوملیں گےاور1حصہ(مابقی )بھتیجےکو(عصبہ ہونےکی وجہ سے)ملےگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث کا25فیصدبیوہ کو،50فیصدباپ شریک بہن کو،16.6666فیصدماں شریک بھائی کواورباقی8.3334 فیصد بھتیجےکو ملےگا۔
حوالہ جات
"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۔
"رد المحتار" 29 / 398:
( و ) السدس ( للواحد من ولد الأم والثلث لاثنين فصاعدا من ولد الأم ) ذكورهم كإناثهم۔
الشرح( قوله والسدس للواحد من ولد الأم ) أي للأخ أو الأخت لأم ولهم ثلاثة أحوال ذكر منها اثنتين والثالثة أنهم يسقطون بالفرع الوارث وبالأب والجد كما سيأتي۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
13/ذیقعدہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


