03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاحِ ثانی کے بعد لاپتہ شوہر کے واپس لوٹنے کا حکم(اگر مفقود نکاحِ ثانی کے بعد واپس آ جائے تو پہلے نکاح کا حکم)
87621طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

اگر  عرصہٴ دراز سے شوہر کے لاپتہ ہونے کی صورت میں عدالت کے فیصلہ کے بعد  عورت دوسری جگہ نکاح کر لے اور پھر پہلے شوہر کی واپسی ہو جائے اور عورت اُن کے پاس لوٹنا نہ چاہے تو شریعت کیا کہتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد اگر پہلا شوہر واپس لوٹ آئے( خواہ عدت کے اندر لوٹے یا عدت مکمل ہونے کے بعد) بہردو صورت دوسرے شوہر سے فوری طور پر علیحدگی ضروری ہو گی اور  عورت کا پہلے شوہر سے نکاح برقرار سمجھا جائے گا اور بغیر نکاحِ جدید پہلے شوہر کو عورت کو اپنے پاس ٹھہرانے کا حق حاصل ہو گا، اس میں عورت کی رضامندی کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ وہ شخص ابھی تک زندہ تھا اور عورت کا شرعی اصولوں کے مطابق اس کے ساتھ نکاح ہوا تھا، اس لیے حقیقت میں ابھی تک عورت اس کے نکاح میں موجود تھی، اس کی عدم موجودگی میں عورت کو بامر مجبوری دوسری جگہ نکاح کی اجازت دی گئی تھی، جب وہ مجبوری ختم ہو گئی تو عورت پہلے شوہر کے پاس واپس لوٹے گی۔ جہاں تک دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کا تعلق ہے تو اگر دوسرا شوہر ازدواجی تعلقات قائم کر چکا ہو تو اس صورت میں دوسرے شوہر کی عدت (یہ عدتِ طلاق شمار ہو گی، جو کہ تین ماہواری ہے) گزارنا بھی ضروری ہو گا اور یہ عدت بھی پہلےشوہر کے پاس رہ کر ہی گزاری جائے گی۔ (احسن الفتاوی  بتصرف:421/5)

لہذا دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد پہلے شوہر کے واپس لوٹنے پر اگر آپ اس کے پاس نہ جانا چاہیں تو اس سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لینا ضروری ہے،  اس کے بعد آپ اس کی عدت  گزار کر گواہوں کی موجودگی میں  نئے مہر کے ساتھ دوسرے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہیں، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية: (559/1، ط: دار الفكر)‏:

رجل غاب عن امرأته فتزوجت بزوج آخر، ودخل بها فعاد الزوج الأول فرق ‏القاضي بينها وبين الزوج الثاني، وكان عليها العدة، ولا نفقة لها في عدتها لا ‏على الأول، ولا على الثاني.

المبسوط للسرخسي  ( كتاب المفقود، ج11، ص37، ط: دار المعرفة بيروت):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس كما قال الله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] فكيف يستقيم تركها مع الثاني، وإذا اختار الأول المهر، ولكن يكون النكاح منعقدا بينهما فكيف يستقيم دفع المهر إلى الأول، وهو بدل بضعها فيكون مملوكا لها دون زوجها كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة، فعرفنا أن الصحيح أنها زوجة الأول، ولكن لا يقربها لكونها معتدة لغيره كالمنكوحة إذا وطئت بالشبهة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/ذوالقعدة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب