| 83889 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں یوٹیوب پر ایک ایسا چینل بنانا چاہتا ہوں جس میں بچوں کے لیے مختلف ویڈیوز بناؤںگا ،اس میں مجھے کھلونوں کی ویڈیوز بھی بنانا پڑ یں گی ،ویڈیوز میں استعمال ہونے والے کھلونے اور سامان سستا بھی ہو سکتا ہے اور بہت مہنگا بھی ،میں نے پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا بچہ میری ویڈیوز دیکھتا ہے جو ویڈیوز میں دکھایا جانے والا سامان نہیں خرید سکتااور اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے، یا ویڈیوز میں سامان اور کھلونے دیکھ کر اس کا دل دکھتا ہے،توکیا مجھے اس پرگناہ ملےگا؟اور میری ارننگ بھی حلال ہوگی یا حرام ؟مزید یہ کہ جو ویڈیوز میں بناؤں گا ان میں کوئی غیر شرعی چیز نہیں دکھائی جائے گی۔ ان شاءللہ تعالی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یوٹیوب پرویڈیوز بناکر اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے یا نہیں اس کا مدار اس بات پر ہے کہ یوٹیوب پر کیا جانے والے کام شرعا جائز ہے یا نہیں ،عموماً یوٹیوب کے ذریعے کمائی اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیوز اپلوڈ کر کے اور ان پر اشتہارات چلا کر کی جاتی ہے جو کہ اشتہارات چلوانے والے اور یوٹیوب ویڈیوز کے مالک کے درمیان اجارہ کے عقد کی صورت میں ہو تا ہے،اس میں یوٹیوب ویڈیوز کا مالک اپنے پیج یا ویڈیوز پر اشتہار چلانے کی جگہ اشتہار چلوانے والے کو اجارہ پر دیتا ہے،یہ اشتہارات تین طرح کے ہوتے ہیں : (۱)تحریری، (۲)تصویری اور(۳) ویڈیو کلپ کی صورت میں، ان میں سے ہر ایک اشتہار میں جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔یوٹیوب چینل پر جو ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، وہ صرف جائز اور مفیدمعلومات پر مشتمل ہوں۔
2۔یوٹیوب ویڈیوز پر جن کاروباروں کے اشتہارات چلائے جا رہے ہیں ان کا کام شرعا جائز ہو،مثلاً سودی بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور اسی طرح فلموں اور گانوں کے اشتہارات نہ ہوں، چنانچہ اگر ایسے اشتہارات آجائیں تو ان کو سیٹنگز میں جا کر فلٹر کر دیا جائے۔
3۔کسی جائز کاروبار کے اشتہار میں اگر کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر یا میوزک وغیرہ شامل کر دیا جائے اور اس میں یوٹیوب ویڈیو کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہو گا، لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے اور احتیاط کےباوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کےبغیر کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر یا میوزک ) پر مشتمل ہو، تو اس کا گناہ یوٹیوب ویڈیوز کے مالک کو نہیں ہوگا، البتہ اس صورت میں بھی غیر شرعی مواد کے ذریعے جو آمدنی حاصل ہوئی ہے توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر نا ضروری ہو گا۔
4۔اشتہارات چلوانے والے اوریوٹیوب ویڈیوز کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔
چنانچہ درج بالا امور کا خیال رکھنے کے بعد یوٹیوب کے ذریعے کی جانے والی کمائی حلال ہو گی اور ایسی ویڈیوز کی وجہ سے اگر کسی بچہ کے دل میں خواہش پیدا ہوتا ہو یا کھلونے دیکھ کر اس کادل دکھتاہو تو اس پر آپ کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
یوٹیوب کی کمائی کے حکم سے متعلق جامعۃالرشید سے تفصیلی فتوی جاری ہواہے جو دارالافتاءکی ویب سائٹ پر موجود ہے۔(حوالہ نمبر:70225،گوگل ایڈسینس اور یوٹیوب کی کمائی کاتفصیلی حکم، https://almuftionline.com/2020/10/03/2833/)
حوالہ جات
القرآن الکریم (5/ 2):
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 392):
وجاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.
قال ابن عابدینؒ:(قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية، قال في المنح: وهو صريح في جواز بيع الغلام من اللوطي، والمنقول في كثير من الفتاوى أنه يكره وهو الذي عولنا عليه في المختصر اهـ.
فقہ البیوع:( :(314/ 1
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة، من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمحض أويكثر فيه استعماله المباح .
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
16/ ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


