03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا دل صاف ہونے سے آدمی ظاہری احکام کا مکلف نہیں رہتا؟
83873سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

جب کسی کوغلط کام سےمنع کیاجائے،مثلًاکوئی گانےسن رہاہےاوراسےمنع کیاجائےکہ یہ گناہ

ہےتوکہتےہیں "دل صاف ہوناچاہیے،اس کےسننےسےکچھ نہیں ہوگا'یہ بات کہنادرست ہے؟۔اسی طرح کسی کوپردہ کےمتعلق کہا جائےتوآگےسےکہاجاتاہےپردہ اصل میں تودل کاہوتاہےوہ صاف ہوناچاہیئے،ظاہری پردہ میں کیارکھاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ کہنا کہ دل صاف ہونا چاہیے کہ گانا سننے یا پردہ نہ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، انتہائی بے ہودہ اور جاہلانہ بات ہے،جاننا چاہیے کہ شریعت کے احکام دو طرح کے ہیں: بعض احکام کا تعلق دل کے ساتھ ہے، جیسے دل میں حسد، بغض، کینہ اور کبر وغیرہ نہ ہونا وغیرہ۔اور بعض احکام کا تعلق ظاہری اعضاء اور جوارح کے ساتھ ہے، جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوة کی ادائیگی کا وجوب اورمنع کردہ احکام جیسے غیبت، چغل خوری، زنا، سود، جوا اور غصب وغیرہ ان سب چیزوں کا تعلق انسان کے ظاہری اعضاء کے ساتھ ہے، دل کے صاف ہونے سے یہ احکام ساقط نہیں ہوتے، بلکہ اگردل بری صفات سے پاک بھی ہو تو بھی ظاہری احکام انسان کے ذمہ لازم رہتے ہیں اور ان کے ادا نہ کرنے کی صورت میں انسان سے آخرت میں باز پرس ہو گی، صرف دل صاف ہونے سے ظاہری احکام معاف نہیں ہوں گے، اس لیے یہ نظریہ رکھنا کہ دل صاف ہونے کی صورت میں باقی احکام کی ادائیگی کی ضرورت نہیں رہتی، شریعت کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، جس سے بچنا واجب ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ دل صاف ہونے کی صورت میں یہ احکام واجب نہیں رہتے تو اس میں کفر کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے ایسے کلمات کہنا ہرگز جائز نہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

15/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب