03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ آزاد کےساتھ طلاق دینے اور موسوس کی طلاق کا حکم
83908طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی کو تقریبا ایک مہینہ ہوا تھا تو میری بیوی کی مجھ  سے کسی بات پر لڑائی ہوئی- ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے- لڑائی ختم ہونے کے بعد میں نے اس کو جذباتی کرنے کے لئے کو ئی پانچ  ، چھ بار بولا کہ" آج کے بعد سے تم میری طرف سے آزاد ہو" اور ساتھ ایک  دفعہ یہ بھی بولا کہ" نکاح کا رشتہ قائم رہے گا "اور ایک بار یہ بھی بولا کہ" جو ذمہ داریاں الله نے میرے اوپر فرض کی ہیں وہ میں پوری کرتا رہوں گا"۔  میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تم جو مرضی کرو،میں تمہارے کسی معاملے میں دخل اندازی نہیں کروں گا اور نہ ہی تم سے کسی قسم کی محبّت جتاؤں گا،بس بطور شوہر  اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہوں گا-

 میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ لفظ آزاد سے بھی طلاق ہو جاتی ہے ۔ ذہن میں خیال آنے پر یوٹیوب پر سرچ کرنے سے معلوم ہوا کہ بعض کےہاں یہ صریح اور بعض کےنزدیک کنایہ  طلاق کے الفاظ ہیں ۔

 ایک دو دن بعد ایک بار میری بیوی نے مجھے مذاق میں کہا کہ "آپ آزاد ہیں میری طرف سے" تو جواب میں میں نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ" تم بھی آزاد ہو میری طرف سے"- بعد میں میرے ذہن میں آیا کہ یہ تو مذاکرہ طلاق تھا تو میں نے تجدید نکاح کر لی کہ اگر پہلی یا دوسری صورت میں اگر طلاق ہوئی ہے تو میں دوبارہ نکاح کر لوں -

 اس کے بعد میں اپنی ریسرچ کی وجہ سے وسوسوں کا مریض بن گیا اور مجھے کنایہ الفاظ میں وہم ہونے لگ گیا - میں کچھ بھی بولتا تو مجھے لگتا کہ میں طلاق کی نیّت سے کہہ رہا ہوں- وسوسوں کے مریض بننےکے بعد تقریبا کوئی ایک سو جگہ مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں طلاق دے چکا ہوں-  آخر کار ماہر نفسیات کے پاس گیا اور انہوں  نے مجھے OCD کی بیماری بتائی- میں نے اپنا علاج کروانا شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔

میرے سوال:

1.      کیا لفظ آزاد جو میں نے دو بار استعمال کیا اس سے کوئی کنایہ یا صریح طلاق تو نہیں ہوئی؟

2.       اگر دو دارالافتا ءکی رائے میں اختلاف ہو تو میں آسانی والے قول پر عمل کر سکتا ہوں؟

 میں نے آپ کی ویب سائٹ پر پڑھا ہے کے وسوسوں کے مریض کی طلاق نہیں ہوتی- وسوسوں کے مریض سے آپ کی کیا مراد ہے؟ میری صورت ایسے نہیں ہے کہ میرے دماغ میں آیا کہ میں طلاق دیتا ہوں اور منہ سے نکل گیا ہو۔ بلکہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کے میں نے صریح یا کنایہ الفاظ بول دیئے ہیں۔ میں بیوی سے کچھ بات بھی کروں جس میں کنایہ الفاظ کا احتمال ہو تو مجھے ہمیشہ ایسا لگتا کہ میں طلاق کے مطلب سے بول رہا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندرکوئی چیز ہے جو میرا دماغ اسی مطلب کی طرف لے کر جاتی ہے۔ مثال کے طور بیوی کو بولوں گا: رہنے چلی جاؤ تو ایسا محسوس ہوگا کہ کہنے کا مطلب ہے ہمیشہ کے لئے چلی جاؤ،یا بیوی کا فون کاٹوں گا تو ایسا لگے گا طلاق کی نیت سے کاٹا ہے ،اس سے طلاق ہو جائے گی، یا صبح آفس جاتے ہوئے اللہ حافظ بولوں گا تو لگے گا کہ طلاق کے مطلب سے بول دیا ہے۔ یہ اس طرح کی ۱۰۰ مثالیں ہیں جو ابھی ذہن میں نہیں ،لیکن ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے کہ طلاق کے مطلب سے بول رہا ہوں۔ اِسی طرح جب پانی پیتا ہوں تو ایسا لگتا ہے بیوی کے لئے منہ سے طلاق نکل رہا ہے۔ جہاں بھی ہوں لیکن پانی نگلتے ہوئی دماغ بیوی کی طرف ہی جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بیوی کو کہہ رہا ہوں۔ تو کیا ان سب صورتوں کو دیکھ کر آپ مجھے وسوسوں کا مریض سمجھیں گیں یا نہیں؟ کیا میری طلاق ہوگی یا نہیں ہوگی؟

 وہم اور وسوس کی وجہ سے منہ بند کر کے میں زبان ہلا کر کچھ دفعہ ( ٹی ایل اے کیو) بول چکا ہوں۔ ایک بار  کہتے ہوئےدماغ بیوی کی طرف بھی گیا ہے ، کہنا کچھ اور چاہ رہا تھا لیکن یہ بول دیا۔ منہ بند تھا لیکن زبان ہل رہی تھی اور کانوں تک تھوک ہی کی آواز آئی اور گلے سے کوئی آواز نہ نکلی۔ پھر ۳ مفتی صاحبان سے پوچھا اور انہوں نے بتایا کے جب تک ہونٹ بند ہوں تب تک کچھ نہیں ہوتا۔

تنقیح :  سائل نے  زبانی بتایا کہ پہلی مرتبہ گاڑی میں جاتے ہوئے  سیاق و سباق یہ  چل رہا تھا کہ  نئی شادی ہونے کی وجہ سے  کچھ ناراضگیا ں  پیدا ہوگئی تھی ، میکے  کے گھر سے واپسی پر گا ڑی میں بیوی غصہ ہوگئی کہ تم مجھے والدین کےگھر جانے نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ ،  سائل نے بھی غصہ تھا۔بالاخر جب  بیوی رونے  لگی، تو    سائل نے اس کو جذباتی بنانے کےلیے  نارمل  لہجہ میں لفظ آزاد کے جملے کہے تھے ۔یوٹیوب سے سرچ کرنے پر طلاق کنائی وغیرہ کی بحث سامنے آنے پر بندہ پریشان ہوگیا تھا ، بیوی  کو بھی  بتا یا تھا اس لیےاس کو بھی اس بات کا علم تھا  ، ایک رات اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ، پریشان دیکھ کر بیوی نے چھیڑنے کےلیے  کہا کہ" آج کے بعد تم میری طرف سے آزاد ہو"، جس پر سائل نے  پریشانی کے عالم میں  بلاسوچے سمجھے یہ جواب دیا کہ" تم بھی میری طرف سے  آزاد ہو ، میرا دماغ خراب نہیں کرو۔" اس کےبعد نئے مہر کےساتھ والدین اور بالغ بہن کےسامنے  تجدید نکا ح کیا۔ سائل کے  ارسال  کردہ طبی رپورٹ   کی ایک دیندار  ڈاکٹر  سے تصدیق کروائی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 لفظ "تم میری طرف سے آزاد ہو" لفظ کنائی ہے   جس سے  ‏ طلاق کی نیت یا سیاق وسبا ق میں طلاق کا قرینہ پائے  جانے کے بغیر  طلاق  نہیں ہوتی ۔صورت مسولہ میں گاڑی میں جاتے ہوئے آپ کی نیت طلاق کی نہیں تھی  اور طلاق کا کوئی قولی یا عملی   قرینہ بھی نہیں پایا جارہا ہے،اس لیے گاڑی میں کہے  ہوئے  جملوں سے کوئی  طلاق نہیں ہوئی ۔

 پریشانی کے عالم میں  بیوی کی باتوں کے جواب میں اگر   آپ نے  حالت غصہ  میں  ہوش وحواس میں یہ جملے  "تم بھی میری طرف سے آزاد ہو ، میرا دماغ خراب نہیں کرو " کہے تھے  تواس  سے  ایک طلاق ہوگئی تھی ،تاہم تجدید نکا ح کرنے    کے بعد  اب پریشان ہونے  کی کوئی ضرورت نہیں اور گر حالت غضب میں نہیں کہےتھے تو کوئی طلاق  نہیں ہوئی تھی۔

    ڈاکٹروں سے  وقتا فوقتا  اپنی چیک اپ کراتے رہیں،  جب  تک وہ تندرست قرار نہ دیں،  اس وقت تک غیر ارادی  یا مشکوک طور پر  طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی ،  بات بات پر طلاق کے خیالات آنےکی دھیان نہ دیں۔ ان وسوسوں کا ایک ہی علاج ہے کہ  ان  پر کان نہ دھریں اوراپنا علاج جاری رکھیں۔

 کسی مسئلہ  میں علماء کا اختلا ف ہوتو  متعلقہ  فیلڈ میں جس عالم کے علم اور تقوی پر بھروسہ ہو، اس کی رائے پر عمل کرنا چاہئے اور اگر سب پر اعتماد ہو تو جس کے علم اور تقوی پر زیادہ اعتماد ہو اس کی رائے اور فتوی پر عمل کریں اورجہاں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح معلوم نہ ہو تو کسی بھی ایک کی  رائے پر عمل کر سکتے ہیں، اگر چہ اس میں آسانی کیوں نہ ہو، البتہ عبادات کے معاملہ میں احتیاط والی رائے پر عمل بہترہےاورمعاملات ومعاشرت سے متعلق مسائل میں آسانی وسہولت پر مبنی رائے پر عمل کی بھی جائز ہے۔

اپنے  سوالات کے جوابات  مختلف ویب سائٹس پر ڈھونڈنے  کے بجائے  سب سے بہتر یہ ہے کہ کسی مستند دارالافتاء سے   ان کی تحریر ی جوابات حاصل کیا کریں   ، ورنہ بذریعہ فون کسی مستند دارالافتاء سے ان کے جوابات  پوچھ لیا کریں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 299):

بخلاف فارسية قوله : ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري. ..ثم فرق بینہ و بین سرحتک فإن ‌سرحتك كناية ،لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح ،فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك ،يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا ؛لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت... وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به كما في فارسية سرحتك ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 300):

ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد... ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة...

والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 242):

فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل، نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 224)

فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس،

 (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب.

 نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

18/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب