| 83907 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت کا انتقال ہوچکا ہے، ورثا میں شوہر، شوہر کی بیٹی جو دوسری بیوی سے ہے اور، دو بھتیجے اور دو بھتیجیاں ہیں، اس خاتون کے بھائی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا۔
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ اس خاتون کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال بھی اس کی زندگی میں ہوگیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحومہ کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے کوئی قرض واجب ہو، وہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اگر شوہر نے مہر زندگی میں ادا نہ کیا ہو، نہ ہی اس نے خوش دلی سے معاف کیا ہو تو وہ بھی قرض میں شامل ہوگا۔ اس میں سےسب سے پہلے اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو،اس کو ادا کریں۔ اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کو کُل چار (4) حصوں میں تقسیم کر کے آدھا یعنی دو (2) حصے شوہر کو اور ایک، ایک (1، 1) حصہ دو بھتیجوں میں ہر ایک کو دیدیں۔ سوتیلی بیٹی اور بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ جات
السراجی فی المیراث،ص 38-36:
العصبات النسبیة ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغیره، و عصبة مع غیره. أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل فی نسبته إلی المیت أنثی، وهم أربعة أصناف: جزء المیت، و أصله، و جزء أبیه، و جزء جده، الأقرب فالأقرب، یرجحون بقرب الدرجة ……و أما العصبة بغیره فأربع من النسوة، و هن اللاتی فرضهن النصف و الثلثان، یصرن عصبة بإخوتهن کما ذکرنا في حالاتهن. و من لا فرض لها من الإناث و أخوها عصبة، لا تصیر عصبة بأخیها، کالعم والعمة، المال کله للعم دون العمة.
و فی صفحة 86:
باب ذوی الأرحام: …..والصنف الثالث: ینتمی إلی أبوی المیت، و هم أولاد الأخوات، و بنات الإخوة، و بنو الإخوة لأم.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


