| 83916 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
کچھ دن پہلے ہاتھ اور ہاتھ کی انگلیوں پر مذی لگ کر خشک ہو گئی، میں نے غلطی سے وہی ہاتھ بالوں پر پھیرا جو کہ تیل سےچکنے تھے ، اور پھر اپنے ماتھے پر ہاتھ کی انگلیاں پھیریں اور ناخن سے سر کھجایا، ماتھے اور سر پر پسینہ بھی تھا یہ مجھے یاد ہے۔ کیا میراما تھا اور سر نا پاک ہو گیا تھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذی ناپاک ہے اور نجاستِ غلیظہ ہے ، ہاتھ پر لگنے سے ہاتھ ناپاک ہوجاتا ہے ، البتہ ہاتھ پر لگی مذی خشک ہونے کے بعد اگر اسے ماتھے اور سر پر پھیراہوتوحکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس طرح کرنے سے ماتھے اور سر پر نجاست کاکوئی اثر (رنگ، بو ، ذائقہ)ظاہر نہ ہو ، تو ماتھا اور سر ناپاک نہیں ہوگا ، البتہ نجاست کااثر ظاہر ہو تو ماتھااور سر ناپاک ہوجائےگا ۔
حوالہ جات
واتفقت العلماء على أن الغسل لا يجب لخروج المذي، وعلى أن المذي نجس، وعلى أن الأمر بالوضوء منه كالأمر بالوضوء من البول.(بذل المجھود:2/ 265)
و لو ابتل فراش أو تراب نجساوكان ابتلالهما من عرق نائم عليهما أوكان من بلل قدم وظهر أثر النجاسة وهو طعم أو لون أو ريح في البدن والقدم تنجسا لوجودها بالأثر وإلا أي وإن لم يظهر أثرها فيهما فلا ينجسان.(حاشية الطحطاوی على مراقي الفلاح:158)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
18ذوالقعدْہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


