| 83957 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک خاتون کے برادر ان لا(شوہر کے بھائی) کا انتقال ہوا ہے،ان کا ایک گھر ہے ،دو بھائیوں کے نام تھا،دیور نےخریدا تھا جس کا انتقال ہوا ہے،سارے پیسے اس نے لگائے تھے، اس نے اپنے بڑے بھائی کے نام بھی کروایا ہوا تھا کہ اس نے والد بن کر ہم کو پالا ہے،(جبکہ اپنے نام پر بھی تھا) تاہم اس نے اپنی لائف میں اوپن کبھی اس طرح سے نہیں کہا کہ یہ میرے بڑے بھائی کا بھی گھر ہے، انہوں نےکوئی کلیئر وصیت نہیں کی کہ یہ گھر بڑےبھائی کو دیا جائے یا کس کو دیا جائے۔
ان کی وائف اور دو بیٹیاں بحرین میں ہیں، ان کی وائف بحرین کی ہیں، پاکستان کی نہیں ہیں،وہ بھی بحرین میں ہی ہوتے تھے ،لیکن ان کو کینسر تھا ، علاج کے لیے پاکستان آئے ،پھر پاکستان میں ان کا انتقال ہوا۔
انہوں نے اپنے بھتیجے ( بڑے بھائی ، جن کے نام گھر تھا ، کے بیٹے کو ،جو ان کے ساتھ ہاسپٹل میں تھا اور بڑے بھائی بھی ساتھ میں جو ان کی ٹیک کیئر کر رہے تھے )کہا تھا کہ یہ گھر آپ کا ہے، آپ اس میں رہیں ،کبھی وہ کہہ دیتا تھا کہ سب کا ہے گھر، لیکن وہ جنرل باتیں تھیں،پراپر ایک وصیت یا کوئی ڈاکومنٹیشن نہیں ہے۔
ان کے والدین، دادا دادی حیات نہیں ہیں، وائف اور دو بیٹیاں ہیں،ان کے تین بھائی اورتین بہنیں حیات ہیں۔بڑے بھائی جن کے نام گھر کیا ہواتھا،ان کے پانچ بیٹے ہیں۔میت کی فرسٹ وائف تھی ان کو طلاق ہو چکی ہوئی ہے، ان کے بچے نہیں ہیں۔
تنقیح:عام طور پریہ گھر خالی رہتاہے،بڑے بھائی بھی دبئی ہوتے تھے،جب یہ دونوں بھائی یہاں آتے تو مشترکہ رہائش رکھتے۔اب بھی بھائی باہر ملک ہی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مرحوم نے گھر فقط اپنے بھائی کے نام کیا تھا، خاندان کے کسی فرد کو ہدیہ یعنی گفٹ دینے کی صراحت نہیں ہے،اس گھر میں رہائش برقرار رکھنے اور بھائی کو باقاعدہ حوالے نہ کرنے سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے،اس لیے یہ گھر بطور وراچت ان کے ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم نے فوت ہوتے وقت ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،جس بیوی کو طلاق ہوچکی تھی اور عدت بھی گذر گئی ہے اس کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:
1۔ بیوی کو 12.5 فیصد حصہ ملے گا۔
2۔ہر بیٹی کو33.335 فیصد حصہ ملے گا۔دونوں بیٹیوں کا مجموعی حصہ66.67فیصد ہوگا۔
3۔ہر بھائی کو4.63 فیصد حصہ ملے گا۔ تینوں بھائیوں کا مجموعی حصہ13.89فیصد ہوگا۔
3۔ ہر بہن کو2.3133فیصد حصہ ملے گا۔ تمام بہنوں کا مجموعی حصہ6.94فیصد ہوگا۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
20/ذوالقعدہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


