| 83952 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والدِ محترم حاجی محمد یونس 30 مئی 2008ء کو انتقال کرگئے ہیں۔ ہم چار بھائی، دو بہنیں اور ایک والدہ محترمہ ہیں۔ بہنیں شادی شدہ ہیں، دو بھائی بھی شادی شدہ ہیں، جبکہ ایک بھائی نفسیاتی طور پر بیمار اور دوسرا روزگار کے لیے بیرون ملک مقیم ہے۔ بیمار بھائی مستقل گھر میں مقیم ہے، اس کی مکمل کفالت والدہ محترمہ کر رہی ہے۔
ہمارا ایک مشترکہ گھر ہے جو بر لبِ نہر واقع ہے، اس کی ملکیت محکمۂ انہار پنجاب گورنمنٹ کی ہے اور الاٹمنٹ والد صاحب کے نام پر ہے۔ والد صاحب کی زندگی میں بڑے بھائی قاری شعیب الرحمان صاحب نے گھر کا کچھ کام کروایا، جس میں گھر کی بیٹھک کی تعمیر کی تھی، پانی کی موٹر، گیٹ اور بجلی کا میٹر لگوایا تھا۔
والد صاحب کی وفات کے بعد چھوٹے بھائی خبیب الرحمان نے گھر کے تمام کمروں اور بیٹھک کے تمام چھتوں کو جو بوسیدہ ہو چکی تھیں، نئے سرے سے نئی چھتیں لگوائیں، اس کے علاوہ گھر کا نیا کچن، پلستر، صحن میں فرش، واش روم، گھر کی چار دیواری اور ضروری تعمیر و مرمت کی۔ اس کے ساتھ نہر کے اندر مٹی ڈال کر اور دیوار کر کے اپنے ذاتی خرچہ سے کچھ مزید جگہ گھر کے ساتھ ملائی، جو پہلے نہر کا حصہ تھی۔
اب آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جب اس وراثت کی تقسیم ہوگی تو بڑے بھائی نے والد صاحب کی زندگی میں جو خرچہ کیا تھا، اس کا شمار ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو کس ترتیب سے ہوگا؟ اسی طریقہ سے چھوٹے بھائی خبیب الرحمان نے والد صاحب کی وفات کے بعد جو گھر کے تعمیر کے کام کروائے ہیں اور نہر کی جو جگہ گھر کے ساتھ ملائی ہے، وہ کس کے حصے میں آئے گی؟ کیا تقسیم کے وقت وہ اس کے اخراجات لینے کا مجاز ہے یا نہیں؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ہمارے گھر کے علاوہ یہاں تقریبا پانچ ہزار گھر ہیں اور یہ سب عام لوگ ہیں، یعنی ان گھروں کی الاٹمنٹ محکمۂ انہار میں ملازمت کی وجہ سے نہیں ملی، بلکہ یہ پنجاب حکومت نے غریب لوگوں کو مکانات دینے کی ایک اسکیم شروع کی تھی، اس کے تحت لوگوں کو یہ زمینیں الاٹ ہوئی تھیں۔ اس میں ہمیں ہر قسم کے حقوق حاصل ہیں، یعنی ہم اس کو بیچ بھی سکتے ہیں اور اگر حکومت ہم سے یہ زمین کسی وقت لیتی ہے تو ہمیں اس کے پیسے دے گی، اس میں اور عام ملکیتی زمین میں فرق صرف یہ ہے کہ اس کا انتقال نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسٹامپ پیپر پر بکتی ہے، یعنی اگر ہم کسی کو یہ زمین بیچتے ہیں تو پٹواری کے پاس جاتے ہیں، وہ اس کی الاٹمنٹ نئے خریدار کے نام کردیتا ہے۔
ہمارے چھوٹے بھائی نے والد صاحب کی وفات کے بعد نہر کے جس حصے کو مکان کے ساتھ ملایا ہے، وہ قانونی طریقے پر ہے، خلافِ قانون نہیں، حکومت نے حدود مقرر کی ہیں کہ اس حد تک آپ لوگ آبادی کر سکتے ہیں، اس سے آگے نہیں، یہ آبادی اس حد کے اندر ہے۔ اور اس جگہ کا آباد ہونے سے پہلے ہمارے والد صاحب کے گھر سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ بالکل عام اور ناقابلِ استعمال جگہ تھی۔
ہمارے بڑے بھائی اولاً تقسیم کے لیے راضی ہی نہیں ہو رہے، اور تقسیم کی صورت میں انہوں نے جو کام کیے ہیں، ان کے پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ چھوٹا بھائی بھی کہہ رہا ہے کہ جیسے معاشرے میں ہوتا ہے، میں نے جتنے کام کیے ہیں، مجھے ان کی رقم مجھے دیدیں، پھر تقسیم کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کے بڑے بھائی صاحب نے والد صاحب کے گھر میں بیٹھک کی تعمیر، پانی کی موٹر، بجلی کا میٹر اور گیٹ لگوانے کے کام اگر بطورِ احسان اور تبرع کیے تھے تو اب یہ سب چیزیں میراث کا حصہ ہوں گی، ان چاروں چیزوں سمیت پورے گھر میں تمام ورثا کو اپنا اپنا شرعی حصہ ملے گا، بڑے بھائی صاحب کو ان کاموں کا الگ سے کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر انہوں نے یہ کام بطورِ احسان نہیں کیے تھے تو تو ان کاموں پر ان کا جتنا خرچہ ہوا تھا، وہ والد صاحب کے ذمے قرض شمار ہوگا، لہٰذا میراث میں سے سب سے پہلے ان کا یہ قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد باقی ماندہ مال بطورِ میراث تقسیم ہوگا۔
اسی طرح چھوٹے بھائی نے والد صاحب کی وفات کے بعد مشترکہ وراثتی گھر میں جو کام کیے ہیں اور جو نئی جگہ آباد کر کے گھر کے ساتھ ملائی ہے، اگر یہ سب اس نے بطورِ احسان کیا ہے تو اب اسے الگ سے کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن اگر اس نے یہ سارے کام بطورِ احسان نہیں کیے تھے تو اس کا جتنا خرچہ ہوا ہے، وہ اس کا قرض شمار ہوگا، لہٰذا اس گھر سے سب سے پہلے یہ قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد باقی مال تمام ورثا میں بطورِ میراث تقسیم ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار (6/ 747):
( عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها ) لصحة أمرها ( ولو ) عمر ( لنفسه بلا إذنها فالعمارة له ) ويكون غاصباً للعرصة، فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك ( ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع ) في البناء فلا رجوع له. ولو اختلفا في الإذن وعدمه ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له؛ لأنه هو المتملك، كما أفاده شيخنا.
حاشية ابن عابدين (6/ 747):
قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها، جامع الفصولين. وفيه عن العدة: كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره، ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع، ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ…. قوله ( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق، فيرجع عليها لصحة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف، وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له، فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما، ط عن المقدسي. قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية، ط.
جامع الفصولين (2/ 119)
عمر دار امرأته فمات وتركها وابناً فلو عمرها بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها، فتغرم حصة الابن. ولو عمرها لنفسه بلا إذنها فالعمارة ميراث عنه، وتغرم قيمة نصيبه من العمارة، وتصير كلها لها. ولو عمرها لها بلا إذنها قال النسفي: العمارة كلها لها، ولا شيء عليها من النفقة، فإنه متبرع. وعلى هذا التفصيل عمارة كرم امرأته وسائر أملاكها.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488):
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة؛ لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك، والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له، أي للزوج عليها أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع، فيرجع عليها لصحة الأمر، فصار كالمأمور بقضاء الدين. وإن عمرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة، وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق، فلا يكون له الرجوع عليها به. وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه، فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه، فيبقى على ملكه فيكون غاصباً للعرصة وشاغلاً ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين. لكن بقي صورة، وهي أن يعمر لنفسه بإذنها، ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها، ولا يؤمر بالتفریغ إن طلبته، انتهی.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/ذو القعدة/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


