03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میری طرف سے تم مکمل /بلکل آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ
83967طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے شوہر نے  August 20219 کو کہا میرا اور تمہارا تعلق بس یہیں تک تھا، اس کے بعد یہ مجھے امی کی طرف چھوڑ آئےاور واپس 4 ماہ بعد لینے آئے،April 2022کو کہامیری طرف سے تم مکمل /بالکل آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ، April 202428کو کہا میری طرف سے تم مکمل /بلکل آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ،پھر کہا: میری طرف سے تم مکمل طور پر فارغ ہو عدت پوری کرو اور جاؤ،ماں باپ کے گھر جا کر عدت پوری کرو، اس کے بعد بھی یہ طلاق کی بات کرتے رہے کہ کہا تھا کہ لے لو اس طرح کے، ابھی میں یہی ہوں، لیکن بس تھوڑی بات چیت ہی ہوتی۔

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ شوہرنے "میرا اور تمہارا تعلق بس یہیں تک تھا" کے الفاظ نارمل حالت میں کہے تھے، البتہ اس کے بعد لکھے گئے الفاظ "میری طرف سے تم مکمل /بالکل آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ" دونوں مرتبہ تھوڑی بہت لڑائی جھگڑے کی وجہ سے غصے کی حالت میں کہتے تھے۔ نیز سائلہ نے یہ بھی بتایا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ ان الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے اس وقت سے ابھی تک دوبارہ نکاح کیے بغیر ہم اکٹھے رہتے رہے ہیں اور تین ماہواری بھی ان الفاظ کے کہنے کے بعد گزر چکی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب شوہر نے پہلی مرتبہ کہا کہ"میرا اور تمہارا تعلق بس یہیں تک تھا" کیونکہ عام طور پرنارمل حالت میں  یہ الفاظ طلاق کے لیے استعمال نہیں ہوتے، دوسری مرتبہ اپریل2022ءکہے گئے الفاظ"میری طرف سے تم مکمل /بالکل آزاد ہو، جہاں مرضی جاؤ" سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی، کیونکہ یہ الفاظ کنایاتِ طلاق کے ان الفاظ میں سے ہیں، جن سے قرینہٴ طلاق کے پائے جانے کے وقت بغیر نیت کے بھی  طلاق واقع ہو جاتی ہے اور غصے اور جھگڑےکی حالت  بھی وقوع طلاق کا قرینہ ہے، لہذا ایک طلاق بائن واقع ہونے کی وجہ سے فریقین کے درمیان اسی وقت نکاح ختم ہو چکا تھا اور اس کے بعد آپ دونوں کا اکٹھا رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، لہذا لاعلمی میں اکٹھا رہنے پر آپ دونوں پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے گڑگڑا کر توبہ واستغفار کرنا  بھی ضروری ہے۔

اس کے بعد اپریل 2024ء کو کہے گئے الفاظ "میری طرف سے تم مکمل /بلکل آزاد ہو جہاں مرضی جاؤ،پھر کہا: میری طرف سے تم مکمل طور پر فارغ ہو عدت پوری کرو " سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ سوال میں تصریح کے مطابق آپ کو اپریل 2022ء میں دی گئی طلاق کے بعد تین ماہواری گزرنےکی وجہ سے طلاق کی عدت مکمل ہو چکی ہے، لہذا اب حکم یہ ہے کہ چونکہ ابھی تک فریقین نے دوبارہ نکاح نہیں کیا، اس لیے اگر فریقین آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، لیکن اگر عورت اس شخص کے علاوہ کسی اور شخص سے نکاح کرنا چاہے تو اس کے لیے عدت وطی (ہمبستری کی عدت) بھی پورا کرنا ضروری ہے اور وہ آخری مرتبہ ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے، لہذا آخری مرتبہ ازدواجی تعلقات کے بعدسے تین ماہواری گزرنے پر مذکورہ خاتون شرعا دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

    (اللباب في شرح الكتاب، كتاب الطلاق، ج:1، ص:269) :

والكنايات ثلاثة أقسام: قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح رداً ولا شتما، وهي ثلاثة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح رداً، وهي خمسة ألفاظ: خلية، برية، بتة، بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا ورداً ولا يصلح سباً وشتما؛ وهي خمسة أيضا: اخرجي، اذهبي، اغربي، قومي، تقنعي، ومرادفها، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية، والقول قوله في عدم النية، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع بكل لفظ لا يصلح للرد وهو القسم الأول والثاني، وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث، ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل للجواب فقط وهو القسم الأول. كما في الإيضاح.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 518) دار الفكر-بيروت:

لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة، عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اهـ وما قاله الصدر هو ظاهر.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب