| 83956 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
ایک مرد ہے ، جو ماضی میں زنا کا مرتکب رہا ہے ،لیکن اس سےسچی توبہ کر چُکا ہے۔ایک عاقل، بالغ ،دین دار اور پاک دامن لڑکی نے اس سے نکاح کیا ہے ،لیکِن یہ نکاح گھر والوں یعنی لڑکی کے باپ اور بھائی سے چُھپ کر کیا گیا تھا ،نکاح کے وقت نکاح کی مجلس میں دو عاقل اور بالغ مرد گواہ موجود تھے، اُن دونوں گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کیا گیا تھا اور نکاح قاضی صاحب نے پڑھایا تھا۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ نکاح درست ہو گیا ہے؟ یا پھرلڑکی کے ولی سے اجازت لےکرنکاح دوبارہ کرنا پڑے گا؟کفاءت ( برابری )کے دیگر تمام شرائط میں لڑکا اورلڑکی برابر ہیں، بس لڑکا ماضی میں زنا کا مرتکب رہا ہےجس سے اب توبہ کر چُکا ہے اور لڑکے کا گناہ لوگوں سے چھپا ہوا بھی ہے ۔
تنقیح : سائل نے بتایا کہ دیگر تمام امور میں کفاءت سے مراد پیشہ ، مال اور خاندان میں برابری ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل سوال کےجواب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ولی کی اجازت کے بغیر یوں چھپ کر نکاح کرنا مروت اور شریعت کے مزاج دونوں کے خلاف ہے ۔ صورت مسؤلہ میں اگر لڑکا اور لڑکی واقعتا سوال میں ذکرکردہ امور میں باہم برابر اور ہم پلہ ہیں تو نکاح ہو گیا ، اگرچہ لڑکا گزشتہ زمانہ میں فسق کا مرتکب ہوا ہے، جب لڑکےنے اس گناہ سے اب توبہ بھی کی ہے اور نکاح کے وقت وہ اس میں مبتلا بھی نہ تھا ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 56)
(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ
(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر. وأما إذا لم يكن لها ولي فهو صحيح نافذ مطلقا اتفاقا كما يأتي لأن وجه عدم الصحة على هذه الرواية دفع الضرر عن الأولياء، أما هي فقد رضيت بإسقاط حقها فتح، وقول البحر: لم يرض به يشمل ما إذا لم يعلم أصلا فلا يلزم التصريح بعدم الرضا بل السكوت منه لا يكون رضا كما ذكرناه فلا بد حينئذ لصحة العقد من رضاه صريحا، وعليه فلو سكت قبله ثم رضي بعده لا يفيد
(قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له فتح
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 91)
(و) الكفاءة (اعتبارها عند) ابتداء (العقد فلا يضر زوالها بعده) فلو كان وقته كفؤا ثم فجر لم يفسخ، وأما لو كان دباغا فصار تاجرا فإن بقي عارها لم يكن كفؤا وإلا لا.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
21/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


