| 83999 | ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائل | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے ( |
سوال
کتاب: ذکر،دعاء اورتعویذات کےمسائل
باب: ذکر،دعاء اورتعویذات کےمسائل سوال:میں عملیات کا کام کرتا ہوں، لوگ آکر روحانی علاج کے سلسلہ میں اپنے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ہمارے اوپرتعویذ ، جنات وغیرہ کا اثر تونہیں ؟تو میں علم تعداد وغیرہ سے بتا دیتا ہوں کہ کوئی اثر ہے یا نہیں، میں مریض سے شروع میں کہہ دیتا ہوں کہ میری 500 یا ہزار فیس ہے ،چاہے اثر وغیرہ معلوم ہو یا نہ ہو،کیا اپنی طرف سے اس طرح پیشگی اجرت ایا فیس طے کر لینا صحیح ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عملیات کےکام کاطریقہ کاراگرشریعت کےمطابق درست ہوتویہ بھی چونکہ ایک ذریعہ علاج ہے،اس لیےعرف کےمطابق اس کی فیس لی جاسکتی ہے،شرعااس میں کوئی حرج نہیں۔
جہاں تک بات ہےعلم تعدادکےذریعہ بتانےکی تواس میں تفصیل یہ ہےکہ علم تعدادسےمراداگر"علم الابجد"ہے،جس کوتاریخی نام رکھنے،تعویذبنانےیادیگرمباح مقاصد کےلیےاستعمال کیاجاتاہے،توشرعااس کی گنجائش ہےاوراسی کےذریعہ عملیات کاکام کیاجائےتو فیس بھی لی جاسکتی ہے۔
لیکن اگراس سےمراد"علم الاعداد" ہے(جس میں علم الغیب کادعوی،اورغیب تک پہنچنےکی کوشش کی جاتی ہے،اعدادکوایک خاص ترتیب سےجمع کرکےمستقبل کےحوادث معلوم کیےجاتےہیں،اسی طرح انسان کی شخصیت اوراس کےمختلف احوال پراعدادکےاثرانداز ہونےکےعقیدہ کو تسلیم کیاجاتاہے)توچونکہ اس طرح کےمقاصد اسلامی تعلیمات کےصریح خلاف ہیں،لہذاعلم الاعدادکی یہ قسم حرام ہے،اس سےاجتناب لازم ہوگا۔)ماخوذازتبویب دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی۔ فتوی نمبر: 60937/57)
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
24/ذیقعدہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


