| 83998 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مسئلہ واضح فرمادیں کہ جس طرح والد کے مال میں سارے بیٹے وارث ہو سکتے ہیں کیا اس طرح والدہ کے حصہ میں سب برابر کے شریک ہونگے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس طرح والدکےمال میں تمام بیٹےوراثت کےحصےکےبقدرشریک ہوتےہیں،اسی طرح والدہ کےانتقال کےبعد ان کی ملکیتی جائیداد بھی اس وقت موجود ورثہ میں تقسیم ہوگی،لیکن یہ والدہ کےانتقال کےبعدہی ہوگا،اس سےپہلےتووالدہ کواپنی ملکیت میں مکمل تصرف کااختیار ہے۔
حوالہ جات
۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
24/ذیقعدہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


