03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ میں ڈراپ شِپَر کا خریدار کا وکیل بننے کا حکم
83975خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

جس طرح ڈراپ شپنگ کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ چیز بیچنے والا سپلائر کا وکیل بالبیع بن جائے تو کیا یہ امر جائز نہیں کہ خریدار کا وکیل بالشراء بن جائے اور ویب سائٹ پر پروڈکٹ کے ساتھ یہ لکھ دے کہ آپ کے لیے ہم اپنے سپلائر سے خریدیں گے؟ ڈراپ شپنگ میں مشتری کو چیز پہنچنے سے پہلے اگر نقصان ہوتا ہے تو وہ ڈراپ شپر کو برداشت کرنا ہوتا ہے، ایک آدھ صورت میں یہ بھی ہوتا ہے کہ سپلائر کہتا ہے اگر نقصان ہوا تو میں برداشت کروں گا، لیکن اصل یہی ہے کہ ڈراپ شپر کو نقصان برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اس ماڈل یعنی مشتری کا وکیل بالشراء بننے کا تجربہ ابھی تک ہم نے نہیں کیا، اس کا شرعی حکم واضح ہوجائے تو پھر ہم دیکھیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈراپ شپنگ میں ڈراپ شِپَر کا خریدار کا وکیل بننا فی نفسہ جائز ہے، بشرطیکہ خریدار کے سامنے یہ بات واضح ہو۔ لہٰذا ویب سائٹ پر مکمل وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ بات لکھ دی جائے کہ ہم آپ کو اپنی مصنوعات نہیں بیچتے، بلکہ آپ کو جو چیز چاہیے ہوگی، ہم آپ کے وکیل کی حیثیت سے وہ آپ کے لیے سپلائر  سے خریدیں گے اور اپنی ان خدمات کے عوض آپ سے اتنی متعین اجرت (Commission) لیں گے۔ اجرت میں اصل یہ ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلاً ہر پروڈکٹ خریدنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ خریدنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ خرید کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

واضح رہے کہ اس صورت میں خریدے جانے والے سامان کی مکمل قیمت مؤکل یعنی خریدار سے پہلے سے لینا ضروری ہوگا؛ تاکہ خریداری اسی کے مال سے ہو۔ اگر خریدار قیمت پہلے سے نہ دیتا ہو، بلکہ سپلائر کو پیسے دینا ڈراپ شپر کی ذمہ داری ہو، خریدار بعد میں اس کو پیسے دیتا ہو تو پھر وکالت کا یہ معاملہ قرض (ڈراپ شپر کا خریدار کی طرف سے سپلائر کو ادائیگی کرنے) کے ساتھ مشروط ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا، بلکہ سودی معاملات کے حکم میں داخل ہوگا۔

البتہ اگر اصل طریقہ یہی ہو کہ خریدار پہلے سے رقم ادا کرتا ہو اور اسی کی رقم سے چیز خریدی جاتی ہو، پھر کبھی کبھار کوئی خریدار کسی وجہ سے پہلے سے رقم ادا نہ کرسکے اور اور ڈراپ شِپَر اس کی طرف ادائیگی کرے تو اس کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ اس کی طرف سے ادائیگی کی وجہ سے اجرت ) کمیشن( میں اضافہ نہ کیا جائے، ایسی صورت میں کمیشن زیادہ وصول کرنا قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں داخل ہوگا، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

نیز یہ بھی لازم ہے کہ سامان سے متعلق ہر قسم کے خطرات (Risks) مؤکل یعنی خریدار کو برداشت کرنے ہوں گے، الاّ یہ کہ ڈراپ شِپَر کی تعدی (زیادتی) یا تقصیر (کوتاہی) کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس کا ذمہ دار وہ ہو گا۔ یہ بات بھی ویب سائٹ پر وضاحت کے ساتھ لکھنا ضروری ہے، تاکہ خریدار کے سامنے معاملے کی پوری حقیقت واضح ہو، وہ کسی قسم کی غلط فہمی یا دھوکہ میں نہ رہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (5/ 573):

 عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا " .

رد المحتار (6/ 63):

مطلب في أجرة الدلال:   تتمة:  قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل،  وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم.  وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه، كدخول الحمام.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 77-74):

( المادة 83 ) يلزم مراعاة الشرط بقدر الإمكان……. والشروط ثلاثة أنواع : منها ما هو جائز، ومنها الفاسد، واللغو. وما تجب مراعاتها إنما هي الجائزة : أي الموافقة للشرع الشريف كما سنأتي عليها بالتفصيل فيما يلي………… كذلك لو قال شخص لآخر : إنني آجرتك داري بكذا قرشا على أن تقرضني كذا مبلغا أو تهديني هدية، أو قال شخص لآخر: إنني أبرأتك من ديني بشرط أن تشتغل عندي مدة كذا، فلا تصح هذه العقود . والحاصل أن هذه العقود التسعة إذا شرط فيها شرط فاسد، فإنه يفسدها .

المجلة (ص: 284):

مادة 1463: المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة هو في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير فلا يلزم الضمان، والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة هو أيضا في حكم الوديعة.

مادة 1467: إذا اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل فيستحقها، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة فيكون متبرعا، وليس له المطالبة بالأجرة.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        26/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب