03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ازدحام کی وجہ سے رمی ذبح اور حلق سے پہلے طوافِ زیارت کرنا
84003حج کے احکام ومسائلجنایات حج کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر کوئی شخص ازدحام کی وجہ سے دسویں  ذی الحجہ کو رمی ذبح اور حلق سے پہلے طواف زیارت کرلے تو کیا حکم ہے ؟ کیا اس پر دم لازم ہوگا ؟ بینوا توجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طواف زیارت کو رمی ، ذبح اور حلق کے بعد کرنا سنت ہے ، واجب نہیں  ہے لہذا اگر کوئی شخص رمی، ذبح اور حلق سے پہلے طواف زیارت کر لے  تو اس پر دم لازم نہ ہوگا مگر خلاف  سنت اور مکروہ ہوگا۔

شامی میں ہے:

 واما الترتیب بینہ (ای بین طواف الزیارۃ)وبین الرمی والحلق فسنۃ (شامی ص ۲۵۰ج۲ مطلب طواف الزیارۃ)

عمدۃ الفقہ میں  ہے:

 (فائدہ) طواف زیارت اور رمی وحلق میں  ترتیب یعنی طواف زیارۃ کا ان دونوں  کے بعد واقع ہونا ، اور اسی طرح طواف زیارۃ وحلق میں  ترتیب یعنی حلق کے بعد ہونا سنت ہے واجب نہیں  ہے ، حتیٰ کہ اگر کس شخص نے رمی اور حلق سے پہلے طواف زیارۃ کر لیا تو اس پر کچھ جزا واجب نہیں  ہے، البتہ اس نے سنت کی مخالفت کی اس لئے ایسا کرنا مکروہ ہے (عمدۃ الفقہ ص ۲۵۳ ج۴،طواف زیارت)

معلم الحجاج َمیں  ہے :

مسئلہ : طواف زیارت کو رمی اور حجامت کے بعد کرنا سنت ہے واجب نہیں  ہے (معلم الحجاج ص ۱۹۵ ، طواف زیارت)

اس موقعہ پر ازدحام عذر نہ ہونا چاہئے اس لئے کہ طواف زیارت دسویں  ذی الحجہ کے بعد گیارہویں اور بارہویں  کو بھی ہوسکتا ہے ۔

 معلم الحجاج میں  ہے :

 مسئلہ: طواف زیارت کا اول وقت دسویں  کی صبح صادق سے ہے اس  سے پہلے جائز نہیں  اور آخر وقت باعتبار وجوب کے ایام نحر(یعنی ۱۰۔۱۱۔۱۲ ذی الحجہ) ہیں  اس کے بعد اگر کیا جائے گا تو صحیح ہوجائے گا، لیکن دم واجب ہوگا(معلم الحجاج ص ۱۰۷)

طواف زیارت حج کا رکن اعظم ہے ،بارہویں  ذی الحجہ تک اس کی ادائیگی کا وقت ہے اس لئے ازدحام کا بہانہ بنا کر مؤخرکی  چیز کو مقدم کر کے کراہت کا ارتکاب کرنا حاجی کے شایان شان نہیں  ہے ، حتی المقدور تمام ارکان سنت طریقہ کے مطابق ہی ادا کرنا چاہئے ۔

حوالہ جات

۔

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 26/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب