| 84003 | حج کے احکام ومسائل | جنایات حج کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کوئی شخص ازدحام کی وجہ سے دسویں ذی الحجہ کو رمی ذبح اور حلق سے پہلے طواف زیارت کرلے تو کیا حکم ہے ؟ کیا اس پر دم لازم ہوگا ؟ بینوا توجروا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طواف زیارت کو رمی ، ذبح اور حلق کے بعد کرنا سنت ہے ، واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی شخص رمی، ذبح اور حلق سے پہلے طواف زیارت کر لے تو اس پر دم لازم نہ ہوگا مگر خلاف سنت اور مکروہ ہوگا۔
شامی میں ہے:
واما الترتیب بینہ (ای بین طواف الزیارۃ)وبین الرمی والحلق فسنۃ (شامی ص ۲۵۰ج۲ مطلب طواف الزیارۃ)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
(فائدہ) طواف زیارت اور رمی وحلق میں ترتیب یعنی طواف زیارۃ کا ان دونوں کے بعد واقع ہونا ، اور اسی طرح طواف زیارۃ وحلق میں ترتیب یعنی حلق کے بعد ہونا سنت ہے واجب نہیں ہے ، حتیٰ کہ اگر کس شخص نے رمی اور حلق سے پہلے طواف زیارۃ کر لیا تو اس پر کچھ جزا واجب نہیں ہے، البتہ اس نے سنت کی مخالفت کی اس لئے ایسا کرنا مکروہ ہے (عمدۃ الفقہ ص ۲۵۳ ج۴،طواف زیارت)
معلم الحجاج َمیں ہے :
مسئلہ : طواف زیارت کو رمی اور حجامت کے بعد کرنا سنت ہے واجب نہیں ہے (معلم الحجاج ص ۱۹۵ ، طواف زیارت)
اس موقعہ پر ازدحام عذر نہ ہونا چاہئے اس لئے کہ طواف زیارت دسویں ذی الحجہ کے بعد گیارہویں اور بارہویں کو بھی ہوسکتا ہے ۔
معلم الحجاج میں ہے :
مسئلہ: طواف زیارت کا اول وقت دسویں کی صبح صادق سے ہے اس سے پہلے جائز نہیں اور آخر وقت باعتبار وجوب کے ایام نحر(یعنی ۱۰۔۱۱۔۱۲ ذی الحجہ) ہیں اس کے بعد اگر کیا جائے گا تو صحیح ہوجائے گا، لیکن دم واجب ہوگا(معلم الحجاج ص ۱۰۷)
طواف زیارت حج کا رکن اعظم ہے ،بارہویں ذی الحجہ تک اس کی ادائیگی کا وقت ہے اس لئے ازدحام کا بہانہ بنا کر مؤخرکی چیز کو مقدم کر کے کراہت کا ارتکاب کرنا حاجی کے شایان شان نہیں ہے ، حتی المقدور تمام ارکان سنت طریقہ کے مطابق ہی ادا کرنا چاہئے ۔
حوالہ جات
۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


