03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری مسجد کے امام کے معذور ہونے کی وجہ سے مؤذن کا مستقل امامت کرانے اور اذان کے لیے کسی اور کو رکھنے کا حکم
84015اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میں گورنمنٹ کی ایک مسجد میں ملازم ہوں، میری پوسٹ مؤذن کی ہے، لیکن اس مسجد کا امام فالج کا اٹیک ہونے کی وجہ سے مفلوج ہو گیا ہے، اس کو اب نماز پڑھانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اب میں نماز پڑھاتا ہوں اور اذان کے لیے میں نے ایک بندہ رکھا ہے، جس کو پیسے میں خود دیتا ہوں۔  کیا میرے لیے ایسا کرنا ٹھیک ہے یا مجھے اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئے اذان ہی دینی پڑے گی؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ہماری یہ مسجد ڈسٹرکٹ کونسل میں ہے اور لوکل گورنمنٹ کے زیرِ انتظام ہے۔ امام صاحب کو فالج کا اٹیک ہوئے چار سال ہوگئے ہیں، جب اٹیک ہوا تو اس وقت ہمارے محکمے نے ایک رسمی حکم نامہ (Official Latter) جاری کیا جس میں ایک ماہ تک امامت کی ذمہ داری مجھے دی گئی۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد وہ حکم نامہ منسوخ ہوگیا۔ فالج کی وجہ سے امام صاحب کا دماغ متاثر ہوا ہے، وہ بات بھول جاتے ہیں، قراءت میں مسئلہ ہوجاتا ہے، اس لیے مقتدیوں نے اس پر اعتراض کیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ آکر نماز پڑھتے رہیں، آپ کو اپنی تنخواہ ملتی رہے گی، لیکن نماز مؤذن صاحب پڑھائیں گے۔

 ہماری مسجد میں امام اور مؤذن مقرر کرنے کے مجاز آفیسر نے مجھ سے کہا کہ امام صاحب غریب بندہ ہے، اس کو نکال نہیں سکتے، بس آپ نماز پڑھاتے رہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے مؤذن چاہیے ہوگا، تاکہ وہ اذان بھی دے اور جب میں کہیں باہر جاؤں تو نماز بھی پڑھائے تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ اپنے ساتھ کسی کو رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کی تنخواہ ہم نہیں دیں گے، آپ خود دیں گے۔ اس کے بعد میں نے یہ بندہ رکھا۔ اب میں نماز پڑھاتا ہوں، لیکن مجھے تنخواہ اپنی اذان والی ہی ملتی ہے، امامت کی تنخواہ امام صاحب کو ملتی ہے۔ میری آفیشل پوسٹ اذان کی ہے۔ میں نے جو مؤذن رکھا ہے، اس کو میں اپنے پاس سے تنخواہ دیتا ہوں، کبھی دوسرے لوگ بھی اس سلسلے میں تعاون کرلیتے ہیں۔   

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر امام صاحب کے صحت مند ہو کر دوبارہ امامت کے فرائض سر انجام دینے کی امید ہے تو آپ مجاز آفیسر کی زبانی اجازت سے عارضی طور پر ان کی جگہ امامت کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں۔  

لیکن اگر وہ مستقل طور پر امامت سے معذور ہوگئے ہیں اور آپ مستقل طور پر امامت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں تو اس کے لیے متعلقہ محکمہ کی رسمی (Official) اجازت اور آپ کا بطورِ امام تقرر ضروری ہے، آفیسر کی ذاتی حیثیت میں دی گئی زبانی اجازت کافی نہیں؛ کیونکہ امام اور مؤذن دونوں متعلقہ محکمہ کے اجیرِ خاص ہوتے ہیں، ان پر لازم ہوتا ہے کہ اپنی اپنی مفوضہ ذمہ داری اور کام خود کریں۔ متعلقہ محکمہ کی رسمی (Official)  اجازت کے بغیر اپنا کام چھوڑ کر دوسرا کام کرنا اور اپنی ذمہ داری کے لیے دوسرے شخص کو مستقل طور پر اپنا نائب بنانا جائز نہیں۔ تاہم اب تک آپ نے امامت کرا کر مؤذن کی جو تنخواہ لی ہے، وہ بہر حال آپ کے لیے حلال ہے، اس میں کوئی شبہہ نہیں، لیکن ایسا کرنا درست نہیں تھا، آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کریں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (4/ 208):

وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره، ولأن عمل أجرائه يقع له، فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل، فيتعين، فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر.

تبيين الحقائق (5/ 137):

الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل. سمي أجيرا خاصا وأجيرَ وحدٍ؛ لأنه يختص به الواحد، وهو المستأجر، وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له، والأجر مقابل بها، فيستحقه ما لم يمنعه من العمل مانع حسي، كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن من العمل.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 386-387):

(شرح  المادة 425 ) : ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل، ويكون قادرا، وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل . …….. وإنما لا يشترط عمل الأجير الخاص بالفعل كما ورد في هذه المادة؛ لأنه لما كانت منافع الأجير مدة الإجارة مستحقة للمستأجر، وتلك المنافع قد تهيئت، والأجرة مقابل المنافع، فالمستأجر إذا قصر في استعمال الأجير، ولم يكن للأجير مانع حسي عن العمل كمرض ومطر فللأجير أخذ الأجرة ولو لم يعمل ( الزيلعي ) .

المجلة (ص: 106):

 مادة 571: الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره، مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط أن يخيطها بغيره، وإن خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن.

مادة 572: لو أطلق العقد حين الاستئجار فللأجير أن يستعمل غيره.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        27/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب