| 84016 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میرا ذاتی کام ریتی، بجری اور کرش اٹھانے کا ہے۔ گاڑی میری ذاتی ہے، جس کی مالیت تقریبا ایک کروڑ روپے یا اس سے کچھ اوپر ہے۔ مجھے ایک دوست نے دس لاکھ روپے دئیے اور کہا کہ اسے اپنے کاروبار میں لگادیں، نفع میں سے آپ جو مناسب سمجھیں، مجھے دے دیا کریں۔گاڑی کا لوڈ لگوانا، مال لانا اور پہنچانا یہ سب کام میرے ذمے ہیں، میرے پارٹنر کے ذمے کوئی کام نہیں ہے۔ ہم دونوں اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ مہینے کے آخر میں حساب لگائیں گے، جتنا نفع ہوگا، اس میں سے 88% میں لوں گا اور 12%میرا پارٹنر لے گا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرا کاروبار شریعت کے مطابق ہو، میری رہنمائی فرمائیں کہ اس کے دس لاکھ روپے میں کیسے استعمال کروں؟ اور مجھے اپنی طرف سے ہر مہینے کتنے روپے لگانے پڑیں گے؟ نفع اور نقصان کس ترتیب سے رکھیں؟ اور اخراجات، مثلا گاڑی کا ڈیزل،مینٹیننس وغیرہ کی کیا تفصیل ہوگی؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ہمارا کام مہینہ کا تقریبا تیس سے پینتیس لاکھ روپے کا ہے۔ ہم ریت، بجری وغیرہ اٹھاتے ہیں، اپنی جگہ پر لاتے ہیں، پھر آگے بیچتے ہیں۔ یہ دس لاکھ روپے ہم رواں اخراجات، مثلاً گاڑی کے تیل، پیٹرول اور مینٹینینس میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مال کے ذریعے کاروبار میں شرکت کا مطلب یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد رقم ملا کر اس سے مشترکہ طور پر کوئی بھی جائز سامانِ تجارت خریدیں اور آگے بیچیں، اور جو نفع ہو وہ آپس میں متعین فیصدی تناسب سے طے کریں۔ کاروبار میں شرکت کے لیے سرمایہ کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے۔ لہٰذا:
- صورتِ مسئولہ میں آپ دوسرے شریک کی رضامندی سے جتنا بھی سرمایہ لگانا چاہیں، لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے ریت، بجری وغیرہ کا کچھ سٹاک موجود ہے تو شرکت کا معاملہ کرتے وقت اس کی جتنی قیمت ہو، اس کو بھی سرمایہ شمار کر سکتے ہیں، اور اگر اس کے ساتھ مزید سرمایہ لگانا چاہیں تو مزید بھی لگا سکتے ہیں۔
- آپ اپنے شریک کے سرمایہ کو رواں اخراجات (مثلاً اپنی اس گاڑی کے پیٹرول، تیل، ڈیزل اور مینٹینینس کے خرچے میں نہیں لگا سکتے جو آپ سٹاک لانے اور لے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔) اس کی رقم کو کاروبار (جو سامان آپ خریدتے اور بیچتے ہیں) میں لگانا ضروری ہے، البتہ ایک ساتھ ساری رقم لگانا ضروری نہیں ہے۔
- آپ دونوں نے نفع کی تقسیم کا جو طریقۂ کار طے کیا ہے، وہ درست ہے۔ البتہ نفع سے سب سے پہلے کاروبار کے اخراجات منہا ہوں گے، مثلا جگہ کا کرایہ، کاروبار کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کے پیٹرول، تیل، ڈیزل اور مینٹینینس کے اخراجات۔ اس کے بعد جو نفع بچے گا، وہ آپ دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگا۔
- اگر آپ اپنی گاڑی مشترکہ کاروبار کے لیے مفت میں استعمال کرنا نہیں چاہتے تو دوسرے شریک کی رضامندی سے اس کا متعین کرایہ بھی رکھ سکتے ہیں، یہ کرایہ نفع میں مقررہ فیصدی حصے کے علاوہ آپ کو ملے گا۔ اس صورت میں اگر دوسرا فریق نفع میں آپ کا فیصدی حصہ کم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ معقول مطالبہ ہوگا، اس لیے باہم رضامندی سے اس میں کمی کر کے نفع کا نیا تناسب طے کر سکتے ہیں، البتہ جب آپ کے اس شریک نے کام نہ کرنے کی شرط لگائی ہے تو اس کا نفع اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن اگر آپ گاڑی کا کرایہ مقرر نہیں رکھتے، لیکن مشترکہ کاروبار کے لیے اس کے مفت استعمال کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کم سرمایہ شامل کرتے ہیں اور نفع زیادہ (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، یعنی اسی فیصد) وصول کرتے ہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
- نفع کی حقیقی تقسیم اس وقت ہوگی جب شرکت کے کاروبار کی تنضیضِ حقیقی(Actual Liquidation) یا تنضیضِ حکمی (Constructive Liquidation) کی جائے گی۔
- "تنضیضِ حقیقی" کا مطلب یہ ہے کہ جب شرکت ختم کرنا ہو تو مشترکہ کاروبار کے جو اثاثے اور دیون ہوں، ان سب کو نقدی میں تبدیل کیا جائے۔ ہر شریک نے جتنا سرمایہ لگایا تھا وہ اسے واپس کردیا جائے، اسی طرح جو اخراجات ہوئے ہوں یا اگر کاروبار میں کوئی نقصان ہوا ہو، اس کو منہا کیا جائے۔ اس کے بعد جو رقم بچ جائے وہ شرکت کا حقیقی نفع ہوگا، جو شرکاء کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوگا۔
- "تنضیضِ حکمی" کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ کاروبار کے اثاثوں کو بیچا نہ جائے، بلکہ ان کی قیمت لگائی جائے، اور قیمت کے ساتھ جو نقدی اور دیون ہوں، ان کو ملالیا جائے اور ان سب کے مجموعے سے اولاً ہر شریک کا سرمایہ منہا کیا جائے، اسی طرح کاروباری اخراجات اور اگر کوئی نقصان ہوا ہو تو ان کو منہا کیا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، وہ شرکت کا حقیقی نفع ہوگا، جو طے شدہ تناسب سے آپ دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
- مذکورہ بالا دو طریقوں کے بغیر نفع کی حقیقی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ لیکن تنضیضِ حقیقی اور تنضیضِ حکمی تک اگر آپ دونوں کو رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو باہم رضامندی سے ماہانہ (یا جو بھی مدت طےہو) متعین رقم لے سکتے ہیں۔ نفع کی یہ تقسیم علی الحساب ہوگی، یعنی شرکت ختم کرتے وقت اس کا حساب کتاب ہوگا، اگر اس وقت موجود نفع سے اخراجات نہ نکل سکیں یا نقصان کی صورت میں نقصان پورا نہ ہو تو پھر آپ دونوں نفع میں اپنے اپنے حصے کے مطابق اتنی رقم واپس کریں گے جس سے اخراجات اور نقصان پورا ہو۔
- اگر خدا نخواستہ کاروبار میں ہونے والا نقصان نفع سے پورا نہ ہو تو اضافی نقصان آپ دونوں اپنے اپنے سرمایہ کے مطابق نقصان برداشت کریں گے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 264-254):
مادة 1329: شركة العقد عبارة عن عقد شركة بين اثنين فأكثر على كون رأس المال والربح مشتركا بينهم.
مادة 1365: لا يشترط في الشريكين شركة عنان كون رأس مالهما متساويين، بل يجوز كون رأس مال أحدهما أزيد من رأس مال الآخر، وكل واحد منهما لا يكون مجبورا على إدخال جميع نقده في رأس المال بل يجوز أن يعقد الشركة على مجموعة أ و على مقدار منه فبهذه الجهة يجوز أن يكون لهما فضلة عن رأس مالهما تصلح أن تكون رأس مال شركة كنقدهما مثلا.
مادة 1367: كيفما شرط تقسيم الربح في الشركة الصحيحة فذلك الشرط يراعى على كل حال.
مادة 1369: الضرر والخسار الواقع بلا تعد ولا تقصير منقسم على كل حال على مقدار رأس المال، وإذا شرط علی وجه آخر فلایعتبر.
مادة 1370 إذا شرط الشريكان تقسيم الربح بينهما على مقدار رأس المال، سواء كان رأس المال متساويا أو متفاضلا، فيكون صحيحا، ويقسم الربح بينهما على مقدار رأس المال كما شرطا، سواء شرط عمل الاثنين أو شرط عمل الواحد؛ إلا أنه إذا شرط عمل واحد وحده، فيكون رأس مال الآخر في يده في حكم البضاعة.
مادة 1371: إذا تساوى الشريكان في رأس المال وشرطا من الربح حصة زائدة لأحدهما، مثلا كثلثي الربح، وكان أيضا عمل الإثنين مشروطا، فالشركة صحيحة والشرط معتبر. أما إذا شرط عمل أحدهما وحده فينظر إن كان العمل مشروطا على الشريك الذي حصته من الربح زائدة، فكذلك الشركة صحيحة والشرط معتبر، ويصير ذلك الشريك مستحقا ربح رأس ماله بماله والزيادة بعمله، لكن حيث كان رأس مال شريكه في يده في حكم مال المضاربة كانت الشركة شبه المضاربة. وإن كان العمل مشروطا على الشريك الذي حصته من الربح قليلة فهو غير جائز، ويقسم الربح بينهما على مقدار رأس المال؛ لأنه إذا قسم الربح على الوجه الذي شرطاه فلا يكون شيء مقابل من مال أو عمل أو ضمان إلى الزيادة التي يأخذها الشريك الذي لم يعمل، واستحقاق الربح إنما هو بواحد من هذه الأمور الثلاثة.
بدائع الصنائع (4/ 190):
إذا استأجر من رجل بيتا له ليضع فيه طعاما مشتركا بينهما أو سفينة أو جوالقا إن الإجارة جائزة؛ لأن التسليم ثمة يتحقق بدون الوضع بدليل أنه لو سلم السفينة والبيت والجوالق ولم يضع وجب الأجر ….، وذكر ابن سماعة عن محمد في طعام بين رجلين ولأحدهما سفينة وأرادا أن يخرجا الطعام من بلدهما إلى بلد آخر فاستأجر أحدهما نصف السفينة من صاحبه أو أرادا أن يطحنا الطعام فاستأجر أحدهما نصف الرحى الذي لشريكه أو استأجر أنصاف جوالقه ليحمل عليه الطعام إلى مكة فهو جائز، وهذا على قول من يجيز إجارة المشاع. والأصل فيه أن كل موضع لا يستحق فيه الأجرة إلا بالعمل لا تجوز الإجارة فيه على العمل في الحمل مشتركة وما يستحق فيه الأجرة من غير عمل تجوز الإجارة فيه لوضع العين المشتركة في المستأجر، وفقه هذا الأصل ما ذكرنا أن ما لا تجب الأجرة فيه إلا بالعمل فلا بد من إمكان إيفاء العمل ولا تمكين من العين المشتركة فلا يكون المعقود عليه مقدور التسليم فلا يكون مقدور الاستيفاء فلم تجز الإجارة، وما لا يقف وجوب الأجرة فيه على العمل كان المعقود عليه مقدور التسليم والاستيفاء بدونه فتجوز الإجارة.
المعاییر الشرعیة (331۔332):
3/1/5/9 : یوزع الربح بشکل نهائی بناءً علی أساس الثمن الذی تم بیع الموجودات به، وهو ما یعرف بالتنضیض الحقیقی. ویجوز أن یوزع الربح علی أساس التنضیض الحکمي، وهو التقویم للموجودات بالقیمة العادلة. وتقاس الذمم المدینة بالقیمة النقدیة المتوقع تحصیلها، أي بعد حسم نسبة الدیون المشکوک فی تحصیلها. ولا یوجد فی قیاس الذمم المدینة القیمیة الزمنیة للدین (سعر الفائدة)، ولا مبدأ الحسم علی أساس القیمة الحالیة (أی ما یقابل تخفیض مبلغ الدین لتعجیل سداده). وتثبت المبالغ النقدیة بمقدارها.
3/1/5/10 : لایجوز توزیع الأرباح بشکل نهائی علی أساس الربح المتوقع، بل علی أساس الربح المتحقق حسب التنضیض الحقیقی أوالحکمی.
3/1/5/11 : یجوز توزیع مبالغ تحت الحساب،قبل التنضیض الحقیقی أوالحکمی،علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة عن المقدار المستحق فعلاً بعد التنضیض الحقیقی أو الحکمی.
وفی صفحة:358:
مستند جواز توزیع الربح علی أساس التنضیض الحکمی هو: ثبوت جواز العمل بالتقویم شرعاً فی تطبیقات عدیدة، ومنها الزکاة والسرقة، وقوله صلی الله علیه وسلم: "من أعتق شقصاً فی عبد فخلاصه فی ماله إن کان له مال، فإن لم یکن له مال قوم علیه العبد قیمة عدل".
مستند جواز توزیع مبالغ تحت الحساب قبل التنضیض علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة: أنه لا ضرر فی ذلك علی أحد الشرکاء ما دام هذا المبلغ قابلاً للتسویة.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


