| 84044 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
نہر ی زمین اور بارانی زمین کی فصل میں عشر کا کیا طریقہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زمین کو قابل کاشت بنانے سے لےکر پیداوار کےحصول تک کے اخراجات منہا کیے بغیر بارانی زمین میں دس فی صد اور نہری زمین میں بیس فی صد عشر لازم ہے۔
پیداوار حاصل ہونےکےبعداس کی پیکنگ ،لوڈ نگ اور منڈی تک لے جانے کے اخراجات دو شرائط کےساتھ منہا کیے جاسکتے ہیں :
1. اس جگہ کوئی خریدار نہ مل رہا ہو یا مل رہا ہو لیکن منڈی لے جا کر زیادہ قیمت پر بکنے کی وجہ سےمستحقین زکوۃ کے زیادہ فائدے کا یقین یا غالب گمان ہو۔
2. منڈی لے جانے کے بعد پیداوار کی قیمت سے عشر ادا کیا جائے ، پیداوار سے ادا نہ کیا جائے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 108):
قال: " وما سقي بغرب أو دالية أو سانية ففيه نصف العشر على القولين " لأن المؤنة تكثر فيه وتقل فيما يسقى بالسماء أو سيحا وإن سقي سيحا وبدالية فالمعتبر أكثر السنة كما مر في السائمة۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 109):
قال: " وكل شيء أخرجته الأرض مما فيه العشر لا يحتسب فيه أجر العمال ونفقة البقر " لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.
الفتاویٰ التاتارخانیہ (3/292):
"إذا كانت الأرض عشريةً فأخرجت طعاماً وفي حملها إلى الموضع الذي يعشر فيه مؤنة فإنه يحمله إليه ويكون المؤنة منه۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
27 /ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


