03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پلاٹ میں سے دس فیصد حصہ بیچ کر حاصل ہونے والی قیمت سے کاغذات درست کرنا
84047خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک پلاٹ جس کی موجودہ قیمت ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے، اس پلاٹ کا کرایہ پینتیس ہزارآرہاہے ،اس پلاٹ کے کاغذات میں کچھ پیچیدہ مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے ہم ایک فرد کو پلاٹ میں دس فیصد کا حصہ دار بنارہے ہیں  یعنی پلاٹ کا دس فیصدحصہ ان کو بیچ رہے ہیں تاکہ حصہ سے حاصل ہونے والی رقم سےہم خوداس شخص کے بغیر بذریعہ وکیل اس پلاٹ کے کاغذات کودرست کرسکیں ،جب ہم اس جگہ کےکاغذات درست کرلیں گے اورماریٹ میں اس  پلاٹ کو سیل کردیں گےتوحاصل ہونے والی قیمت کا دس فیصدرقم اس پاٹنرکودیدیں گے کیونکہ وہ دس فیصد کا مالک ہےاورجب تک کاغذات درست نہ ہوں اورجگہ فروخت نہ ہواورکرایہ آرہاہو تب تک کرایہ کا دس فیصد حصہ اس پاٹنرکو ماہانہ دیاجاتارہے گا،پوچھنایہ ہےکہ

کیا ایسا لین دین کرنا شرعی اعتبار سے درست ہے ؟ اگراس معاملے میں کوئی نقص ہے تو بتادیں اوراگرکسی قسم کی احتیاط کی ضرورت ہے تووہ بھی واضح فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ معاملہ شرعا درست ہے اوراس میں کوئی شرعی خرابی نہیں ہے،البتہ دس فیصد کے مالک بن جانے کی وجہ سے کاغذات درست کرنے پرآنے والے اخراجات کا دس فیصدحصہ اس شریک پرآئےگاکیونکہ وہ دس فیصدپلاٹ کا مالک ہے، تاہم اگر اس کے ذمہ آنے والےدس فیصد اخراجات تبرعاًآپ لوگ اپنے ذمہ لےلیتے ہیں تو یہ بھی جائزہےاوراس صورت میں اس دس فیصد اخراجات کا مطالبہ آپ اس پاٹنرسے نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

قال العلّامۃ ابن عابدین رحمہ اللّٰہ:

وفی جامع الفصولین:حائط بینھماوخیف سقوطہٗ فأرادأحدھمانقضہٗ وأبی الآخریجبرعلی نقضہٖ ولو ہدما حائطا بینہما فابی احدہما عن بنائہ یجبر ولو انہدم لا یجبر ولکنہ یبنی الآخر فیمنعہ حتی یأخذ نصف ما انفق لو انفق بامر القاضی ونصف قیمۃ البناء لوأنفق بلاأمرالقاضی۔(ردّالمحتار ۳:۳۸۸ ’’کتاب الشرکۃ۔مطلب مھم فیمااذاامتنع الشریک الخ‘‘)وفی شرح المجلّۃ:’’ومن فروع ھٰذہ القاعدۃ مالواحتاج الملک المشترک الی العمارۃ فطلب أحدالشریکین عمارتہٗ وأبی الآخرفانّہٗ یجبرعلیہ بل اذاکان الملک المشترک قابلًاللقسمۃ یقسم…وان لم یکن قابلًاللقسمۃ یأذن الحاکم لطالب العمارۃ بالتعمیرویحبس العین الٰی أن یستوفی من شریکہٖ قدرما أصاب حصّتہٗ من النفقۃ۔(شرح المجلّۃ لسلیم رستم باز  ۲۹:المادۃ۱۹:القاعدۃ لاضررولاضرار)

وفي الرد: (قوله: بغير إذنه) فلو بإذنه، فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما أنفق، جامع الفصولين من أحكام العمارة في ملك الغير."(کتاب الغصب، مطلب في رد المغصوب، ج:6، ص:194/ 195، ط:سعید)

وفی تنقيح الحامدية:

"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."(کتاب المداینات، (2/391) ط: قدیمی)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 28/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب